اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں ’اجتماعی قتل‘ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بدھ کو اپنے خطاب میں پیڈرو سانچیز نے کہا کہ سپین غزہ کی صورتحال کے ردعمل میں پہلے ہی اسرائیل کے خلاف پابندیوں سمیت متعدد اقدامات کر چکا ہے اور مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم حالیہ مہینوں کے دوران غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کے نمایاں ناقد رہے ہیں۔ اس سے قبل ہسپانوی حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات محدود کرنے اور بعض فوجی تعاون کو روکنے جیسے اقدامات کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
پیڈرو سانچیز نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کے دوران غزہ اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہسپانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جاری تنازعات کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس بھی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انھوں نے جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خونریزی اور تباہی کی شدت ان کے دورِ سیکریٹری جنرل کے دوران دیکھی جانے والی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments