ریاستی حکومت سال کے آخر تک مزید تقریباً 300 کے قریب مدرسے بند کرنے جا رہی ہے۔ طلبہ کی عدم موجودگی اور مناسب بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی کے باعث ۲۵۰ سرکاری طور پر تسلیم شدہ نجی مدرسوں کو اگلے دسمبر تک بند کر دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ جن ۱۰۰ مدرسوں کو ’نوٹس‘ (Show Cause Notice) جاری کیا گیا ہے، انہیں درگا پوجا سے پہلے ہی اس کا جواب دینا ہوگا۔ امکان ہے کہ وہاں سے بھی مزید کم از کم 50 سے زائد مدرسے بند ہو سکتے ہیں۔ یعنی دسمبر تک کل ملا کر تقریباً 300 مدرسے بند ہو جائیں گے۔
سیکرٹریٹ (نبانا) کے ذرائع کے مطابق، جس طرح ریاست میں خارجیہ مدرسوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بالکل اسی طرح اگر سرکاری طور پر تسلیم شدہ نجی مدرسوں میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود نہیں ہوگا تو انہیں بھی بند کر دیا جائے گا۔
ریاست میں پہلے ہی 252 مدرسوں کو بند کیا جا چکا ہے۔ یہ مدرسے کوچ بہار، جلپائی گوڑی، علی پور دوار، شمالی و جنوبی دیناج پور، مالدہ، مرشد آباد، ندیہ، شمالی و جنوبی ۲۴ پرگنہ، ہاوڑہ، ہوگلی، مشرقی بر دھمان اور مغربی بر دھمان اضلاع میں واقع ہیں۔
ان کے علاوہ مزید 100 مدرسوں کو نوٹس بھیجا گیا تھا جن کے خلاف مختلف قسم کی سنگین بے ضابطگیاں اور خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ مدرسے قانونی ضوابط کے مطابق نہیں چل رہے تھے۔
ریاستی حکومت سال کے آخر تک مزید تقریباً 300 کے قریب مدرسے بند کرنے جا رہی ہے۔ طلبہ کی عدم موجودگی اور مناسب بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی کے باعث ۲۵۰ سرکاری طور پر تسلیم شدہ ن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments