اتر پردیش اسمبلی کا مانسون اجلاس کل سے شروع ہو رہا ہے۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی نے یوگی حکومت کو گھیرنے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے ایم ایس پی، تعلیم، سرکاری اسکولوں کی بندش، نوکری، ریزرویشن، پیپر لیک، ای-20، ایکسپریس وے کی تعمیر میں بدعنوانی، رام مندر کے عطیات کی چوری، اساتذہ کی خالی آسامیاں اور جوہر یونیورسٹی سمیت کئی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مانسون اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل اتوار کو اکھلیش یادو نے راجدھانی لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ کل سے اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے، ہمارے اراکین اسمبلی تمام مسائل اٹھائیں گے۔ حکومت کے لوگ اسمبلی کا سامنا ہی نہیں کرنا چاہتے۔ کسانوں کی بدحالی اور کھاد کی قلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے بوری سے چوری ہوتی تھی، اب کھاد کی پوری بوری ہی چوری ہو گئی ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جو یونیورسٹی نہیں بنا پائے، وہ یونیورسٹی پر ہتھوڑا چلانا چاہتے ہیں۔ شروع ہی سے جوہر یونیورسٹی کو لے کر حکومت کے ارادے اور مقصد صحیح نہیں رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی پر سخت کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے 10 سالہ اقتدار میں 26386 اسکول بند ہوئے ہیں۔ میری پارٹی اتر پردیش میں بند ہوئے اسکولوں کا مسئلہ ایوان میں اٹھائے گی۔ جب یوپی میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی، اس وقت 113938 اسکول تھے، جبکہ اب 2026 میں 26000 کم ہو گئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے صدر نے بتایا کہ سب سے زیادہ پرائمری اسکول لکھیم پور کھیری میں بند ہوئے ہیں۔ گورکھپور میں 500 پرائمری اسکول بند ہوئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقے میں بھی اسکول بند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی پارٹی نے اعداد و شمار نکالنا شروع کیے تو یوگی حکومت نے سرکاری ویب سائٹ ہی بند کر دی۔ اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ حکومت کا مقصد صاف ہے کہ پی ڈی اے سماج کو تعلیم یافتہ نہ ہونے دیا جائے۔ ان اسکولوں میں کس طبقے کے طلبہ پڑھتے ہیں، یہ سرکاری اعداد و شمار ہی بتاتے ہیں۔ سرکاری پرائمری اسکولوں میں 2017 تک ایک کروڑ 17 لاکھ بچے پڑھ رہے تھے، جو آج 2026 میں 89 لاکھ کے قریب رہ گئے ہیں۔ 28 لاکھ بچے کم ہو گئے ہیں، جن میں سے 25 لاکھ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کے بچے گھٹے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ اساتذہ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ 2017 میں 4 لاکھ اساتذہ تھے، جبکہ آج گھٹ کر ان کی تعداد 3 لاکھ 40 ہزار رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی کرنا تو دور، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پہلے اسکولوں میں 61 لاکھ بیٹیاں پڑھ رہی تھیں، اب ان کی تعداد 45 لاکھ ہو گئی ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments