Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر معاہدے کے قریب، عراقچی

ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر معاہدے کے قریب، عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ تہران میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور مسقط کے درمیان بات چیت کا مقصد خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک مخصوص بحری راہداری پر اتفاق کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی راستے کے حوالے سے ایران کو سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق تحفظات ہیں، اسی لیے تہران موجودہ جنوبی روٹ کو قابل قبول نہیں سمجھتا۔ اسماعیل بقائی کے مطابق زیر غور تجویز کے تحت نہ موجودہ شمالی راستہ اختیار کیا جائے گا اور نہ ہی جنوبی راستہ برقرار رہے گا، بلکہ دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے ایک نیا بحری راستہ طے کیا جائے گا۔ ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز کی بندش یا بحالی سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال ایران کے بقول امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور پابندیوں سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ عمان کے ساتھ مذاکرات ایک الگ معاملہ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران اور عمان کے درمیان کسی نئے بحری راستے پر اتفاق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی بحالی کے لیے ایک ضروری پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم صرف یہ معاہدہ آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے دو سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کے تحت بحری جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کے زیر نگرانی حصے سے داخل ہوں گے اور عمانی جانب سے گزر کر کھلے سمندر میں جائیں گے۔ چینل 12 کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پیش رفت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی روکنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا تھا کہ ایران اور خطے کے بعض دیگر ممالک کی درخواست پر وہ فوجی اقدام روکنے پر آمادہ ہوئے، بشرطیکہ فریقین جلد کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا بھی شامل ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی توانائی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی لیے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments