ہندستان نے سندھ آبی معاہدہ پر ہیگ میں واقع ’پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن‘ کے فیصلہ کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستان نے اس عدالت کو ہی ’غیر قانونی طریقے سے تشکیل کردہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے فیصلہ سے ہندوستان کے خود مختار اقدامات یا جاری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ سندھ آبی معاہدہ کو روک کر رکھنے کا ہندوستان کا فیصلہ نافذ رہے گا۔ وزارت خارجہ نے ثالثی کر رہی ایجنسی کے اس فیصلہ کو مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ معاہدہ اب بھی نافذ ہے اور ہندوستان سے جموں و کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام محدود کرنے کو کہا گیا تھا۔
عالمی بینک کی قیادت میں ہونے والی اس سماعت کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے ہندوستان نے کہا کہ نام نہاد ’کورٹ آف آربیٹریشن‘ کے پاس ہندوستان کے خود مختار فیصلوں پر کوئی فیصلہ سنانے کا دائرۂ اختیار نہیں ہے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’’سندھ آبی معاہدے کو معطل رکھنے کا ہندوستان کا فیصلہ نافذ رہے گا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ہیگ میں موجود ’پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن‘ نے پیر کے روز ہی کہا کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے اس معاہدے کی پابندی کرنی چاہیے، جسے اس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث روک دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ہندوستان کو کشمیر کے علاقے میں بنائے جا رہے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ پر کام بھی محدود کرنا چاہیے۔ عدالت کے مطابق سندھ آبی معاہدہ پوری طرح نافذ ہے، کیونکہ ہندوستان کے پاس اس معاہدے کو ختم کرنے یا روکنے کی کوئی مناسب وجہ نہیں تھی۔
عدالت نے سماعت کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کیا گیا ایک غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک یہ طے کرے گا کہ ہمالیائی علاقے میں ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔ پاکستان کا مطالبہ مانتے ہوئے عدالت نے کہا کہ غیر جانب دار ماہر کے فیصلے کے 90 دن بعد تک ہندوستان کو راتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ میں مقررہ سطح سے اوپر ڈیم کی دیوار اور پاور ان ٹیک اسٹرکچر بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بعد ازاں ہندوستان نے اس عدالت کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت عالمی بینک کی جانب سے سندھ آبی معاہدہ کی شرائط کی ’واضح خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے تشکیل دی گئی تھی۔ حکومت نے کہا کہ ’’آج غیر قانونی طریقے سے تشکیل دی گئی نام نہاد ’کورٹ آف آربیٹریشن‘ نے سندھ آبی معاہدہ کے تحت عبوری اقدامات اور صورت حال سے متعلق ایک فیصلہ (ایوارڈ) جاری کیا ہے۔‘‘ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ہندوستان اس عدالت کے نام نہاد فیصلے کو پوری طرح مسترد کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے اس غیر قانونی طریقے سے تشکیل دی گئی ادارے کے پہلے کے تمام فیصلوں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے واضح کیا کہ سندھ آبی معاہدہ کو کچھ وقت کے لیے روکنے کا ہندوستان کا فیصلہ اب بھی نافذ ہے۔ پہلگام حملہ کے بعد ہندوستان نے گزشتہ سال اپریل میں یہ معاہدہ روک دیا تھا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے 80 فیصد کھیتوں کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں دستخط کیا گیا ایک اہم آبی تقسیم کا معاہدہ ہے۔ اس پر ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔
ہندستان نے سندھ آبی معاہدہ پر ہیگ میں واقع ’پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن‘ کے فیصلہ کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستان نے اس عدالت کو ہی ’غیر قانونی طریقے سے تشکیل کردہ‘ قرار دیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments