کابل(31 اگست ): افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مختلف مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مختلف مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں طالبان تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ان جھڑپوں اور حملوں میں اب تک 27 سے زائد طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 اگست کو غزنی میں طالبان کی زیرو سکس یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یونٹ کا نائب کمانڈر ملا عمر صدیق ہلاک ہو گیا۔ اسی روز بدخشاں کے ضلع زیبک میں بھی طالبان کی نفری کو پسپا کیا گیا جہاں انہیں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایک اور مزاحمتی گروپ افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق 28 اگست کو لغمان میں طالبان کی وزارتِ دفاع کی رینجر یونٹ پر حملہ کیا گیا جس میں 9 اہلکار ہلاک ہوئے۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار طالبان پولیس کی خفیہ دستاویزات سے حاصل کیے گئے ہیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی 28 اگست کو ہرات میں طالبان کی الفاروق کور کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، اس حملے میں ایک انٹیلی جنس کمانڈر زخمی ہوا۔
دریں اثنا، اے یو ایف نے 30 اگست کو ہلمند میں طالبان کے دو مورچوں پر حملے کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک کرنے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی روز ہلمند کے علاقے نوزاد میں ایک چوکی پر تعینات 6 طالبان کو بھی ہلاک کر کے اسلحہ ضبط کیا گیا۔
علاوہ ازیں، 30 اگست کو ہی کنڑ کے دارالحکومت اسعد آباد میں طالبان کے پولیس ڈسٹرکٹ پر ہونے والے حملے میں دو طالبان ہلاک ہوئے۔ 29 اگست کو جلال آباد میں ایک طالبان انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنایا گیا۔
28 اگست کو فاریاب غور شاہراہ پر طالبان چوکی پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے، جبکہ 26 اگست کو قندھار میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کے دوران 3 طالبان مارے گئے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مختلف مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments