اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں ایک جنازے کی تقریب کے دوران چرچ میں دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جمعے کو صوبہ کرک کے ایک چرچ میں ہونے والے اس حملے میں 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ نامعلوم حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور چرچ کے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔
حکومتی ترجمان محمد المومنی کے مطابق علاقے میں امن و امان کے لیے سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق اردن کے نیم سرکاری ’المملکہ ٹی وی چینل‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’کرک کے حمود چرچ میں اس وقت ایک جنازے کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری تھا جب دو بندوق بردار گاڑی سے باہر نکلے اور جنازے کے اجتماع کے دوران فائرنگ کی۔‘
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ بندوق سے لیس افراد نے ’چرچ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، لیکن مقامی لوگوں نے دروازے بند کر کے انھیں اندر جانے سے روک دیا۔‘
اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں ایک جنازے کی تقریب کے دوران چرچ میں دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments