نئی دہلی، 29 اکتوبر:) سپریم کورٹ نے جمعرات کو سیاسی مشاورتی فرم 'آئی پیک' اور اس کے شریک بانی پرتیک جین سے وابستہ احاطوں میں گزشتہ 8 جنوری کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تلاشی کے دوران مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے کے معاملے میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور سینئر پولیس افسران کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے اس سوال پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا کہ آیا اس معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کی جانی چاہئیں یا اسے ریاستی حکومت پر چھوڑ دیا جائے ، جو اسی سال مئی میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو شکست دے کر اقتدار میں آئی تھی۔ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ اب ریاستی پولیس کی تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے ، کیونکہ ممتا بنرجی اب وزیر اعلیٰ نہیں ہیں اور ریاست میں دوسری سیاسی جماعت کی حکومت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت خود کسی بھی معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کی مجاز ہے ، اس لیے سپریم کورٹ کی جانب سے ایسا کوئی حکم جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسٹر سبل نے عدالت کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر ریاستی حکومت اس راستے کا انتخاب کرتی ہے تو سیاسی تعصب کا کوئی الزام نہیں لگایا جائے گا۔
دوسری جانب، ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے دلیل دی کہ اگر ریاستی حکومت اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرتی ہے تو اس پر بھی بدنیتی کے الزامات عائد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن افراد کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سینئر پولیس افسران بھی شامل ہیں اور ان کے عہدے ریاستی نظام کے تحت ہونے والی تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ای ڈی کی اس عرضی میں مغربی بنگال کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار، کولکاتا پولیس کے اس وقت کے کمشنر منوج کمار ورما اور جنوبی کولکاتا کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر پریہ برت رائے کے نام بھی شامل ہیں۔
یہ تنازع 8 جنوری کو کوئلہ اسمگلنگ کے معاملے میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ای ڈی کی جانب سے کی گئی چھاپہ مار کارروائی کے بعد سامنے آیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ تلاشی کی کارروائی کے دوران ممتا بنرجی سینئر پولیس افسران اور سیاسی رہنما¶ں کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور تحقیقات کے عمل میں مداخلت کی۔ ای ڈی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ احاطے سے تحقیقات سے متعلق اہم دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ہٹا دیے گئے ، جس سے تفتیش متاثر ہوئی۔
اس کے بعد ای ڈی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ایجنسی نے الزام لگایا تھا کہ سرکاری مشینری کا استعمال اس کے افسران کو اپنے قانونی فرائض انجام دینے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔
نئی دہلی، 29 اکتوبر:) سپریم کورٹ نے جمعرات کو سیاسی مشاورتی فرم 'آئی پیک' اور اس کے شریک بانی پرتیک جین سے وابستہ احاطوں میں گزشتہ 8 جنوری کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تلاشی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments