آرمینیا کی پارلیمنٹ میں جمعرات کو حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی، کرسیاں پھینکنے اور میزیں الٹنے کے واقعات پیش آئے، جن میں متعدد ارکان زخمی ہوئے اور سکیورٹی اہل کاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔ رواں ماہ اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
جھگڑا وزیر اعظم نکول پاشینیان کی جماعت ’’سول کنٹریکٹ‘‘ اور حزب اختلاف کے اتحاد ’’مضبوط آرمینیا‘‘ کے ارکان کے درمیان سرکاری اخراجات کی نگرانی کرنے والے ادارے ’’آڈٹ چیمبر‘‘ کے ایک عہدیدار کی تقرری پر بحث کے دوران شروع ہوا۔
حکمران جماعت کے رکن تارون شاخویان نے حزب اختلاف کی جانب سے بد عنوانی کے الزامات کے جواب میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ ناریک کاراپیتیان کے خاندان کا ذکر کیا اور ان کے ایک رشتے دار کے بیان پر تنقید کی۔ اس پر کاراپیتیان نے جواب دیا اور بحث ذاتی حملوں میں بدل گئی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں جانب کے ارکان ایک دوسرے کو دھکے دینے اور مارنے لگے۔
وڈیو میں پارلیمنٹ کے نائب سربراہ واہاگن الکسانیان کو حزب اختلاف کے ارکان کی طرف کرسی پھینکتے، جبکہ شاخویان کو اپوزیشن رکن گارنک داوتیان پر پانی انڈیلتے دیکھا گیا۔ جھڑپ کے دوران کئی ارکان زمین پر گر پڑے اور زخمیوں کے لیے ایمبولینس بلانی پڑی۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر روبن روبینیان نے ابتدا میں اجلاس ملتوی کرنے سے انکار کیا، تاہم 10 منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد اجلاس معطل کر کے سکیورٹی اہل کاروں کو بلایا گیا۔ لڑائی پارلیمانی ہال سے باہر راہ داریوں تک بھی پھیل گئی۔
حزب اختلاف نے اسپیکر پر بروقت مداخلت نہ کرنے کا الزام لگایا۔ ایک گھنٹے بعد اجلاس بحال ہونے پر روبینیان نے جھڑپ کا ذمہ دار کاراپیتیان کو ٹھہرایا اور کہا کہ انہوں نے شاخویان کو اشتعال دلایا۔
یہ واقعہ پارلیمانی آداب بہتر بنانے کے لیے نئے ضابطے منظور ہونے کے چند ہفتے بعد پیش آیا۔ 5 اکتوبر کو پارلیمانی اخلاقیات کمیٹی نے آٹھ قواعد پیش کیے تھے، جن میں پارلیمانی طریقہ کار، سیاسی مخالفین کے احترام اور عوام کا اعتماد برقرار رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز بعد بھی حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے تصادم کے باعث اجلاس ملتوی ہوا تھا۔ مسلسل واقعات نے نئے ضابطوں کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آرمینیا کی پارلیمنٹ میں جمعرات کو حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی، کرسیاں پھینکنے اور میزیں الٹنے کے واقعات پیش آئے، جن میں متعدد ارکان زخمی ہوئے اور سکیورٹی اہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments