نئی دہلی: وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل نے سال میں صرف ایک بار ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکس ریفنڈ کے عمل کو بھی فیس لیس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے دکانداروں اور کاروباری افراد کو کافی فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے جی ایس ٹی کی شرحوں کو آسان بنایا تھا اور 5 شرحیں ختم کرکے صرف 2 شرحیں رکھی ہیں۔ اب ہم صرف کاروباری افراد کے لیے عمل کو آسان بنانے پر غور کریں گے۔ جی ایس ٹی کونسل نے افسران کے اختیارات بھی محدود کر دیے ہیں اور ان سے گرفتاری کے اختیارات بھی واپس لے لیے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی رجسٹریشن کو منظور کرنے کے لیے اب آٹومیٹک روٹ اپنایا جا رہا ہے۔ اس سے ریفنڈ کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں لگنے والے موجودہ 15 دن کے وقت کو کم کرکے 10 دن کرنے کی تیاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال 90 فیصد ریفنڈ تو محض 3 دن کے اندر ہی دے دیے جاتے ہیں۔ باقی ریفنڈ کے عمل کو بھی تیز کرنے کے لیے اب فیس لیس اسیسمنٹ پر کام کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ 10 ہزار روپے یا اس سے کم رقم کے نئے شوکاز نوٹس جاری نہیں کیے جائیں گے، جبکہ ایسے زیر التوا نوٹس بھی واپس لیے جائیں گے۔ اس سے کاروباری افراد کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔ کونسل کی میٹنگ میں غیر رجسٹرڈ رائیڈر ڈیلیوری سروسز پر جی ایس ٹی 18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں، تقریباً 9.5 لاکھ چھوٹے ای کامرس فروخت کنندگان کو پلیٹ فارم کے ویئر ہاؤس کو کاروباری مقام کے طور پر رجسٹر کرنے کی سہولت بھی ملے گی۔
جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں شامل وزارت خزانہ کے سکریٹری اروند سری واستو نے بتایا کہ یکم اپریل 2027 سے بینکوں کو سونے کی درآمد پر 3 فیصد آئی جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے گا۔ یہ آئی جی ایس ٹی صرف سونے پر ہی نہیں، بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں پر بھی عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پر فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے، لیکن اسے اگلے مالی سال سے نافذ کیا جائے گا۔ یہ ٹیکس ان تمام بینکوں کو ادا کرنا ہوگا جنہیں سونے کی درآمد کے لیے مجاز قرار دیا جاتا ہے۔
جی ایس ٹی کونسل میں آئی ٹی سی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی سی کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایماندار ٹیکس دہندگان آخر آئی ٹی سی کے معاملے میں پریشانی کیوں اٹھائیں؟ اگر کوئی کاروباری شخص یا بزنس ان پٹ ٹیکس ادا کرتا ہے تو اس پر غیر ضروری طور پر قانون کا شکنجہ نہیں کسنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ فی الحال تقریباً 69.5 لاکھ ٹیکس دہندگان مرکزی جی ایس ٹی کے عدالتی دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور آگے ہم سب کو ایک یکساں ٹیکس کے دائرے میں لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد کے لیے کمپلائنس کو آسان بنانے کی سمت میں فیس لیس ٹیکس ایڈمنسٹریشن قائم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ایک ڈھانچہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں اگلے سال کے بجٹ میں اعلان کیا جا سکتا ہے اور مالی سال 2028 سے اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
نئی دہلی: وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل نے سال میں صرف ایک بار ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکس ریفنڈ کے عمل کو بھی فیس لیس...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments