نئی دہلی:
کانگریس ایم پی اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کے روز وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایران جنگ کے حل کی کوششوں میں پاکستان نے ثالث کا کردار حاصل کر لیا جبکہ بھارت ایک طرف کھڑا محض دیکھتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی نے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا استعمال کر کے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کا ایک "بہت بڑا موقع" گنوا دیا ہے۔
'رچناتمک کانگریس قومی کنونشن' سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا:
"ایک طرف ایران کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اگر بھارت اپنی طاقت کو سمجھتا اور ہمارے پاس اندرا گاندھی جیسی مضبوط قیادت ہوتی، تو یہ دنیا میں بھارت کے لیے سب سے بڑا موقع ثابت ہو سکتا تھا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ پاکستان ثالث بن گیا جبکہ بھارت اور مودی جی بس کنارے بیٹھ کر دیکھتے رہے۔ یہ سب کیسے ہو گیا؟"
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران بھارت کا دیرینہ اور پرانا دوست رہا ہے، جبکہ روس اور امریکہ کے ساتھ بھی بھارت کے اچھے روابط ہیں۔ اس لیے بھارت ان تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کو حل کرنے میں خود کو اہم بنا سکتا تھا، لیکن ہماری جگہ پاکستان نے لے لی۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز رواں برس 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، جس سے پورے خطے میں تنازع پھیل گیا اور آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے میں آمدورفت متاثر ہوئی۔ مہینوں کی جنگ کے بعد، اپریل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس میں پاکستان نے ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا۔
اگرچہ بعد میں امن بات چیت کا عمل جمود کا شکار ہو گیا اور ایران و امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز اور اقتصادی پابندیوں جیسے مسائل پر اختلافات برقرار ہیں، لیکن اس پورے معاملے میں بھارت براہِ راست فریق یا باضابطہ ثالث کے طور پر سامنے نہیں آیا۔ بھارت نے اگرچہ دونوں فریقین سے سفارتی رابطے برقرار رکھے اور بات چیت و کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا، لیکن راہل گاندھی کے مطابق بھارت کو اس سے کہیں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔
ایران معاملے کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی نے چین سے متصل بھارتی سرحد کی صورتحال اور حکومت کی حکمتِ عملی پر بھی شدید سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چینی افواج نے اروناچل پردیش کے کچھ حصوں میں بھارتی فوجیوں کو گشت کرنے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا:
"آج کل مجھے مودی جی کے دفتر سے براہِ راست معلومات ملتی ہیں، وہاں اندرونی طور پر سخت بے چینی اور بغاوت کی صورتحال ہے۔"
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ ان حالات سے گھبرا چکے ہیں اور میڈیا کو ان پیش رفتوں کی رپورٹنگ کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے گالوان وادی کے پرانے تصادم اور وزیراعظم کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments