نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی نے جمعرات کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات محض دوستی یا سیاسی رہنماؤں کو گلے لگانے تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ ان کا بنیادی مقصد ملک کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ملک کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ صرف سیاست دانوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا۔ انہوں نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوگیا ہے کہ خارجہ پالیسی کا مطلب دوسرے ملکوں کے سیاسی رہنماؤں کو گلے لگانا ہے۔
راہل گاندھی نے اپنے بچپن کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنی دادی اور سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ امریکہ گئے تھے تو وہاں ایک سرکاری عشائیہ منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ اور ان کی بہن پرینکا بچوں کی حیثیت سے گھر پر ہی تھے، جبکہ اندرا گاندھی اور سونیا گاندھی سرکاری عشائیے میں شریک ہوئی تھیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ کسی ملک کا وزیر اعظم جب بیرون ملک جاتا ہے تو وہ کسی دوست کے گھر نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا کردار محض دوستی قائم کرنا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ کسی دوست کے گھر نہیں جا رہے ہیں۔ اس کردار میں ہندوستان کا وزیر اعظم محض دوستی نہیں کرتا۔ انہیں دوستی میں کوئی دلچسپی نہیں، ان کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنظیم اپنی سابقہ سماجی بنیاد سے دور ہوچکی ہے اور اب بڑے سرمایہ کے زیر اثر ایک ذریعہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں آر ایس ایس کو چھوٹے ہندوستانی تاجروں، سناروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کی نمائندگی کرنے والی قوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن ان کے مطابق وہ کردار اب ختم ہوچکا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ’’آر ایس ایس کو بڑے سرمایہ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اب یہ بڑے سرمایہ کا ایک آلہ بن چکا ہے۔‘‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ کسی بھی سیاسی تحریک کو ہندوستان کی موجودہ حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ملک کو سمجھنے کے لیے صرف ہزاروں سال پرانی تاریخ کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ موجودہ ہندوستان اور اس کے اظہار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہندوستان کو اس کی موجودہ شکل میں سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ ہندوستان کو حقیقتاً نہیں سمجھ سکتے۔ راہل گاندھی نے زور دیا کہ ملک کو سمجھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہندوستان کے اظہار اور اس کی حقیقت کو سمجھا جائے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments