حیدرآباد / نئی دہلی:
بار کونسل آف انڈیا نے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نالسار)، حیدرآباد سے سال 2026ء میں ڈگری حاصل کرنے والے تمام طلبا کی بطور ایڈووکیٹ اینرولمنٹ (رجسٹریشن) پر اگلے احکامات تک عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ بی سی آئی کی جانب سے یہ اقدام یونیورسٹی کے سالانہ اجلاسِ تقسیمِ اسناد (کنووکیشن) میں بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کو بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیے جانے کی مخالفت اور طلبا کے شدید اعتراضات کے بعد سامنے آیا ہے۔
جمعرات کے روز جاری کیے گئے اپنے رسمی حکم نامے میں بار کونسل آف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ نالسار یونیورسٹی سے سال 2026ء میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے کسی بھی طالب علم کو فی الحال کسی بھی اسٹیٹ بار کونسل میں بطور وکیل درج نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد اس سال پاس آؤٹ ہونے والے سینکڑوں طلبا کے پیشہ ورانہ مستقبل اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہونے کے امکانات پر عارضی طور پر گہرے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بار کونسل آف انڈیا نے اس پورے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے نالسار کے وائس چانسلر سے فوری اور تفصیل رپورٹ طلب کی ہے۔ بی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ وی پی شرما نے وضاحت کی ہے کہ یہ فیصلہ ادارے میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے بعد لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بار کونسل نے فی الوقت صرف یونیورسٹی انتظامیہ سے رپورٹ مانگی ہے اور اگر تحقیقات کے دوران طلبا کی طرف سے کسی قسم کی بدتمیزی یا غیر اخلاقی رویے کا ثبوت نہیں ملتا، تو وکالت کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص یا طالب علم بار کونسل کے اس فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتا ہے، تو وہ اس کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔
اس تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب نالسار کے بیچ 2026ء کے 450 سے زائد طلبا نے ایک مشترکہ درخواست پر دستخط کر کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ کو ارسال کی۔ اس نمائندہ خط کے ذریعے طلبا نے انتظامیہ سے پرزور اپیل کی کہ چیف جسٹس سوریا کانت کو کنووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کی خبروں پر دوبارہ غور کیا جائے۔
طلبا نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ ابھی تک تقریب کی حتمی تاریخ اور مہمانِ خصوصی کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن وہ انتظامیہ کے حتمی فیصلے سے قبل اپنے شدید تحفظات ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں۔
جنتر منتر مظاہرے اور عدالتی تبصرے احتجاج کی وجہ بنے
طلبا نے اپنی درخواست میں چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ سماعت کا حوالہ دیا ہے، جو 20 جولائی 2026ء کو دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین پر پولیس کے مبینہ تشدد سے متعلق تھی۔
طلبا کے مطابق، 23 جولائی کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس کے مبینہ تشدد پر مبنی ویڈیو ثبوت دیکھنے سے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا تھا کہ عدالت کے پاس یہ سب دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، طلبا نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ چیف جسٹس نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر غیر مناسب تبصرے کیے اور ان کا موازنہ کاکروچ سے کیا، جو ایک قانونی درسگاہ کے طلبا کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر طلبا نے اپنے کنووکیشن میں ان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت پر سخت اعتراض جتایا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments