اجین : مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین میں پیر کی صبح اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب سڑک کی کشادگی کے منصو بے کے تحت ایک قدیم مسجد کے ایک حصے کو مسمار کرنے کی انتظامی کارروائی کے خلاف مسلم برادری کے بڑی تعداد میں افراد، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، سڑکوں پر نکل آئے-
اطلاعات کے مطابق مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پتھراؤ کے متفرق واقعات پیش آئے، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں لانے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے- انتظامیہ نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 2,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جبکہ مذہبی مقام کے 500 میٹر کے دائرے میں رکاوٹیں (بیری کیڈز) لگا کر آمد و رفت پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے-
مظاہرین نے انتظامیہ کے اس اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اور اس احتجاج کے دوران خواتین کو صفِ اول میں دیکھا گیا- واضح رہے کہ شہر کی تاریخی شاہی مسجد کا ایک حصہ سڑک کی توسیع کے منصوبے کی زد میں آ رہا ہے-
اس واقعے سے قبل، مسلم برادری کے ایک گروپ نے خود ہی مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا کام شروع کیا تھا، تا ہم بعد میں ایک اور گروپ نے اس رضا کارانہ مسماری کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا-
دوسری جانب، کانگریس کے رکنِ پارلیمان (MP) عمران پرتاپ گڑھی نے مسجد کے احاطے کی مسماری کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مسلم برادری کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے-
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان کا کہنا تھا "سڑک کی کشادگی کے نام پر اجین کی شاہی مسجد کو مسمار کرنے کی انتظامی کوششوں میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے- ترقی کے نام پر 600 سالہ قدیم تاریخی ورثے کو محض سڑک کی توسیع کے لیے مسمار کرنا تعصب اور نفرت کی انتہا ہے-"
فلحال علاقے میں صورتحال کشیدہ مگر کنٹرول میں ہے، اور پولیس و انتظامیہ اعلیٰ سطح پر نگرانی کر رہی ہے-
اجین : مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین میں پیر کی صبح اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب سڑک کی کشادگی کے منصو بے کے تحت ایک قدیم مسجد کے ایک حصے کو مسمار کرنے کی انتظامی کارروائی کے خ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments