نئی دہلی:
دہلی کے آکاشوانی بھون میں تقریباً 9 گھنٹے سے جاری دھرنے کے بعد منگل کی رات دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس ایم پی پریانکا گاندھی واڈرا اور اپوزیشن اتحاد 'انڈیا' کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام رہنماؤں کو بسوں میں سوار کیا اور وہاں سے لے گئی۔ ذرائع کے مطابق تمام رہنماؤں کو شمالی دہلی کے کنگز وے کیمپ لے جایا جا رہا ہے۔
یہ احتجاج الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور یکطرفہ فیصلوں کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر 'نروچن سدن' کی طرف مارچ کے دوران پولیس نے اپوزیشن رہنماؤں کو کمیشن کے دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر روک دیا تھا۔ جس کے بعد راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں نے آکاشوانی بھون کے قریب ہی دھرنا شروع کر دیا تھا۔
حراست میں لیے جانے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا:
"الیکشن کمیشن کا دفتر یہاں سے محض ۵۰ میٹر کے فاصلے پر ہے، لیکن ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ الیکشن کمیشن کا کام شفاف انتخابات کرانا ہے۔ اپوزیشن کے تقریباً ۳۰۰ اراکینِ اسمبلی و پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ملنے سے ڈر رہے ہیں۔ اگر عوام کے نمائندے الیکشن کمیشن سے مل بھی نہ سکیں، تو پھر جمہوریت کے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟"
نئی دہلی: دہلی کے آکاشوانی بھون میں تقریباً 9 گھنٹے سے جاری دھرنے کے بعد منگل کی رات دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس ایم پی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments