Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

اپیندر کشواہا کی پارٹی کا شیرازہ بکھرا، 4 اراکین اسمبلی میں سے 3 ہوئے باغی!

Admin
By Admin
Oct 06, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

اپیندر کشواہا کی پارٹی کا شیرازہ بکھرا، 4 اراکین اسمبلی میں سے 3 ہوئے باغی!
اپیندر کشواہا کی پارٹی کا شیرازہ بکھرا، 4 اراکین اسمبلی میں سے 3 ہوئے باغی! — October 06, 2026
بہار قانون ساز کونسل انتخاب کے حوالے سے این ڈی اے میں جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سارن ٹیچر حلقے میں این ڈی اے کی جانب سے جے ڈی یو نے آنند پشکر کو امیدوار بنایا ہے۔ وہیں آر ایل ایم کے ریاستی جنرل سکریٹری اور ریاستی چیف ترجمان رام پکار سنہا آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ پیر کے روز رام پکار سنہا نے سارن ٹیچر حلقے سے نامزدگی داخل کی۔ ان کی نامزدگی کے موقع پر آر ایل ایم کے 3 ارکان اسمبلی بھی موجود رہے۔ ان میں آر ایل ایم کے ریاستی صدر اور دینارا کے رکن اسمبلی آلوک کمار سنگھ، مدھوبنی کے رکن اسمبلی مادھو آنند اور باجپٹی کے رکن اسمبلی رامیشور مہتو شامل ہیں۔ تینوں نے رام پکار سنہا کی حمایت کا اعلان کیا۔

آر ایل ایم کے تینوں ارکان اسمبلی کا آزاد امیدوار رام پکار سنہا کو حمایت دینا کئی اعتبار سے اہم مانا جا رہا ہے، کیوں کہ راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایم، این ڈی اے کا حصہ ہے اور سارن ٹیچر سیٹ پر این ڈی اے نے جے ڈی یو کے آنند پشکر کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ایسے میں آر ایل ایم کے 3 رکن اسمبلی کا این ڈی اے امیدوار کے بجائے رام پکار سنہا کے ساتھ کھڑا ہونا، پارٹی کے اندرونی انتشار کو ظاہر کرتا ہے، اور بغاوت کی آگ کو ہوا دیتا ہے۔ آر ایل ایم کے صدر اپیندر کشواہا نے حالانکہ پارٹی میں بغاوت سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آر ایل ایم، این ڈی اے کے ساتھ ہے اور این ڈی اے کے آفیشیل امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کے کوئی بھی رکن اسمبلی باغی نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ریاستی صدر آلوک سنگھ کا کہنا ہے کہ تینوں رکن اسمبلی رام پکار سنہا کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق رام پکار سنہا طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور کارکنان کے وقار کو دیکھتے ہوئے ان کی حمایت کی گئی ہے۔ تینوں اراکین اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ رام پکار سنہا کی حمایت کا مطلب این ڈٰ اے حکومت سے حمایت واپس لینا نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آر ایل ایم کے کل 4 ارکان اسمبلی ہیں، جن میں سے 3 ارکان اسمبلی رام پکار سنہا کی حمایت میں ہیں، جبکہ چوتھی رکن اسمبلی اوپیندر کشواہا کی اہلیہ سنیہ لتا ہیں۔

سارن ٹیچر نشست پر اب این ڈی اے کے امیدوار آنند پشکر اور آزاد امیدوار رام پکار سنہا کے علاوہ جن سوراج کے آفاق احمد بھی میدان میں ہیں۔ رام پکار سنہا کی نامزدگی کے موقع پر آر ایل ایم کے 3 ارکان اسمبلی کی موجودگی نے اس نشست کے مقابلے کو اب مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ بہار میں قانون ساز کونسل کی ٹیچر اور گریجویٹ نشستوں کے لیے 23 اکتوبر کو ووٹنگ اور 27 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی ہونی ہے۔ ایسے میں سارن ٹیچر نشست پر آر ایل ایم کے 3 ارکان اسمبلی کا پارٹی کے خلاف اٹھایا گیا قدم اور اوپیندر کشواہا کی جانب سے پارٹی کے اندر کسی بھی طرح کا اختلاف یا بغاوت سے انکار بہار کی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

بہار قانون ساز کونسل انتخاب کے حوالے سے این ڈی اے میں جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سارن ٹیچر حلقے میں این ڈی اے کی جانب سے جے ڈی یو نے آنند پشکر کو امیدوار بنایا ہے۔...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn