نئی دہلی: مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے بنائے گئے ٹریبونلز کے آن لائن پورٹل میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف ہائی کورٹس کے 11 سابق ججوں نے اگست میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران پورٹل کی متعدد خامیوں پر تشویش ظاہر کی۔
رپورٹ کے مطابق ان خامیوں میں فریقین کو نوٹس بھیجنے، اضافی دستاویزات محفوظ کرنے، ورچوئل سماعت کرنے، ٹریبونل کے احکامات کی مصدقہ کاپی فراہم کرنے اور کاغذی شکل میں دائر اپیلوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کی سہولت کا فقدان شامل ہے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر مغربی بنگال میں 19 اپیلی ٹریبونلز قائم کیے گئے تھے۔ یہ ٹریبونلز ان ووٹروں کی اپیلوں کی سماعت کر رہے ہیں جن کے نام ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ستمبر میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ تقریباً 38 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ان میں 16 لاکھ اپیلیں نام دوبارہ حذف کرنے جبکہ 22 لاکھ اپیلیں نام بحال کرنے سے متعلق ہیں۔
کمیشن کے مطابق 19 ٹریبونلز نے چار ماہ میں صرف 1.06 لاکھ اپیلوں کا فیصلہ کیا، جن میں سے تقریباً 93 فیصد معاملات میں ووٹروں کے نام بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔
رپورٹ میں سابق ججوں کی جانب سے پورٹل میں نوٹس کے نظام کو ایک بڑی خامی قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بار بار درخواست اور یاد دہانی کے باوجود فریقین کو براہ راست یا مناسب چینل کے ذریعے نوٹس بھیجنے کے لیے کوئی مؤثر مشترکہ نظام تیار نہیں کیا گیا۔ مئی میں نوٹس کا ایک فارمیٹ بھی منظور کیا گیا تھا، لیکن اسے نافذ نہیں کیا گیا۔
ججوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر ٹریبونل کو مزید دستاویزات درکار ہوں تو انہیں پورٹل پر محفوظ کرنے کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ بعض ٹریبونلز کو اضافی دستاویزات کے لیے ای میل کے ذریعے ضلعی حکام سے رابطہ کرنا پڑ رہا ہے، جس کا ردعمل بھی تسلی بخش نہیں بتایا گیا۔
اسی طرح پورٹل پر ورچوئل سماعت کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اپیل کا فیصلہ ہونے کے بعد کسی معاملے کو دوبارہ پورٹل پر لانے کی گنجائش نہیں، چاہے عدالتی حکم یا کسی اور وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہو۔
سابق ججوں نے ٹریبونل کے احکامات کی مصدقہ کاپی حاصل کرنے یا انہیں پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باعث اپیل کنندگان یہ جان ہی نہیں پاتے کہ ان کا نام کیوں حذف یا بحال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک جج نے 22 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر نوٹس کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کی شکایت بھی کی تھی۔ جج نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سے اپیلوں کے نمٹارے سے متعلق غلط اعداد و شمار بھی میڈیا کو دیے جا رہے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ایس آئی آر ختم کرنے اور الیکشن کمیشن کی تنظیم نو کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔
نئی دہلی: مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے بنائے گئے ٹریبونلز کے آن لائن پورٹل میں سنگین خام...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments