نئی دہلی: بمبے ہائی کورٹ نے ایک جوڑے پر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزام میں چار افراد کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا لازماً کسی طبقے کے مذہبی عقائد کی توہین یا اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کے جسٹس ایم ڈبلیو چاندوانی نے کہا کہ ملزمان اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے تھے، لیکن انہوں نے ملک کے کسی بھی طبقے کے شہریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ملزمان نے شکایت کنندہ اور اس کی بیوی سے کہا تھا کہ اگر وہ ہندو مذہب چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرلیں تو انہیں ہر ماہ رقم دی جائے گی، ان کے بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھایا جائے گا اور ان کے لیے ایک مکان بھی تعمیر کرایا جائے گا۔
ملزمان نے عدالت میں کہا کہ ان کا مقصد ہندوستان کے کسی بھی طبقے کے شہریوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے کسی مذہب کی توہین کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا، ’’ملزمان صرف اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا کرکے انہوں نے کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘
عدالت نے 6 اکتوبر کے اپنے حکم میں کہا کہ زیادہ سے زیادہ ملزمان پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے شکایت کنندہ اور اس کی بیوی پر ہندو مذہب چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے ان کے مذہبی عقائد کو مجروح کیا۔ عدالت نے اس بات کو بھی پیش نظر رکھا کہ مبینہ واقعہ 2025 میں پیش آیا تھا۔ اس وقت مہاراشٹر میں لالچ دے کر مذہب تبدیل کرانے پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نافذ نہیں تھا۔
نئی دہلی: بمبے ہائی کورٹ نے ایک جوڑے پر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزام میں چار افراد کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص پر مذہب تبدیل کرن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments