الیکشن کمیشن کو ملک میں منصفانہ انتخاب کرانے والا سب سے بڑا آئینی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لیکن جب ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور اعتراضات درج کرانے کے قواعد پر سوالات اٹھنے لگے تو کمیشن کے فیصلے بھی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ مغربی بنگال سے لے کر دہلی تک ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) اور دیگر کئی معاملات پر تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن کو اپنے کچھ فیصلوں میں تبدیلی اور راحت دینے کی ضرورت پڑی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ تقریباً 30 دنوں میں سامنے آئے مذکورہ واقعات نے ایک اہم سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا کمیشن نے زمینی مشکلات اور اٹھنے والے سوالات کو دیکھتے ہوئے اپنے قدم پیچھے کھینچے ہیں؟ کہیں چھوٹے ہوئے ووٹرس کو دوبارہ موقع دیا گیا تو کہیں دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے معاملے میں راحت کی بات سامنے آئی۔ ان تبدیلیوں کو کمیشن کی حکمت عملی میں نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی کے دوران ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے رہ جانے والے لوگوں کے نام جوڑنے کا سوال اہم بن گیا۔ فارم-6 کا استعمال ووٹر لسٹ میں نیا نام درج کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جن اہل ووٹرس کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں ہو پائے، ان کے لیے دوبارہ درخواست دینے کا راستہ کھلنا بڑی راحت مانا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو اپنی اہلیت کی بنیاد پر نام شامل کرانے کا موقع مل سکتا ہے، جو ایس آئی آر عمل کے دوران کسی وجہ سے چھوٹ گئے تھے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر مغربی بنگال کے تمام 24 ضلع الیکشن افسران (ڈی ای او) نے یہ یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم شروع کی ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹر لسٹ سے باہر نہ رہ جائے۔ اس کے تحت ریاست بھر میں خصوصی کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ ان کیمپوں کے ذریعہ ووٹرس کو فہرست میں اپنا نام چیک کرنے، ضروری معلومات حاصل کرنے اور نام سے متعلق مسائل حل کرانے میں مدد دی جا رہی ہے۔ کمیشن کی اس پہل کا مقصد ووٹر لسٹ کو زیادہ درست اور شفاف بنانا ہے، تاکہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔
دہلی میں ایس آئی آر عمل کے دوران سامنے آئی 33 لاکھ خامیوں میں سے تقریباً 20 لاکھ معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے مطابق ان معاملات میں ووٹرس کے ریکارڈ میں تضاد یا 2002 کی ووٹر لسٹ سے نام کی مطابقت نہ ہونے جیسے مسائل شامل تھے۔ باقی معاملات کو حل کرنے کے لیے بھی مہم جاری ہے۔ ووٹرس کی مدد کے لیے 18 اور 25 اکتوبر کو خصوصی کیمپ لگائے جائیں گے۔ کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہیں کیا جائے گا۔ شکایت ہونے پر ووٹر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) یا انتخابی افسران سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کو ملک میں منصفانہ انتخاب کرانے والا سب سے بڑا آئینی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لیکن جب ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور اعتراضات درج کرانے کے قواعد پر سوالات اٹھنے ل...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments