اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کا دورہ کیا اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں نیز شام اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔ کاٹز نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کہا کہ جیسا کہ میں نے اور وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے ہم اس سکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فوج شمالی اسرائیل کی بستیوں کی حفاظت کے لیے یہاں موجود ہے اور اس کی فورسز اس علاقے کو پاک کرنے کے لیے کام کریں گی۔ ہم کسی بھی صورت میں سکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے نہ لبنان میں، نہ شام میں اور نہ ہی غزہ میں۔
واضح رہے اسرائیلی افواج سرحدی خط کے ساتھ ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی لبنانی سرزمین کی پٹی کے اندر اپنی تعیناتی، حملوں اور کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کاٹز نے وضاحت کی کہ فوج اس علاقے میں زمین دوز بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے اور تمام مکانات کو مسمار کر رہی ہے۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے پانچ دور کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس میں خاص طور پر حزب اللہ کو نہتا کرنے، جنوبی لبنان میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے عبرانی ریاست کے تدریجی انخلا اور تجرباتی علاقوں سے شروع کرتے ہوئے لبنانی فوج کی تعیناتی کی شق شامل ہے۔
حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور اپنے ہتھیار چھوڑنے کو مکمل طور پر مسترد کرتی آرہی ہے۔
واشنگٹن نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ ستمبر کے اوائل میں روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کی سرپرستی کرے گا اور جس انداز میں معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دو مارچ کو امریکی اور اسرائیلی طیاروں کی ایران پر بمباری کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ لبنان تک پھیل گئی۔
اس کے بعد جنگ بندی کے اعلامیے پر اتفاق ہوا اور پھر لبنان اور اسرائیل نے براہ راست مذاکرات شروع کیے لیکن اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے ان حصوں پر قابض ہے جن پر اس نے حالیہ جنگ میں قبضہ کیا تھا اور وہ گاہے بگاہے بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور ان تنصیبات کو دھماکے سے اڑانے کی کارروائیاں کر رہا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کی ہیں۔ غزہ میں 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے، وہاں بھی اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی افواج نے پٹی کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے غزہ کے حوالے سے امریکہ کے پیش کردہ اور حماس کے منظور کردہ منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔
Source: Admin
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments