فلسطین میں قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے لیے جانوٹ جیل میں انسانی حالات سخت پابندیوں، سزاؤں اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے باعث شدید حد تک بگڑتے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ ضروریات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت ضمانت شدہ ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کمیشن نے کہا کہ متعدد قیدیوں سے ملاقات اور ان کی شہادتیں سننے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جیل حکام واشنگ مشین کو صرف ہر 12 سے 14 دن بعد استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ زیر جامہ اور بیرونی کپڑے بھی اکثر تبدیل نہیں کیے جاتے، جس سے قیدیوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ قیدیوں کو مسلسل مارپیٹ اور جبر کا سامنا ہے، جبکہ مناسب صحت کی سہولتیں اور ذاتی بنیادی ضروریات فراہم نہیں کی جاتیں۔
مزید کہا گیا کہ بعض کمروں میں 12 قیدی رکھے گئے ہیں لیکن بستروں کی تعداد صرف 10 ہے، جس کے باعث دو قیدیوں کو فرش پر سونا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیل حکام قیدیوں کو پیٹ کے بل سونے پر مجبور کرتے ہیں اور صبح کی گنتی کے بعد شام تک ان کے گدے ہٹا دیتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ جیل کے حصے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، جن میں ریزر اور نیل کٹر قیدیوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے بین الاقوامی اور انسانی اداروں، بالخصوص انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے اپیل دہرائی کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں، تاکہ انہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت کم از کم حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں کے صحت کے حالات بدستور خراب اور مشکل ہیں، کیونکہ جیل انتظامیہ کی طرف سے مسلسل سزا اور انتقامی پالیسیوں نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور ان کی صحت و جسمانی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ جیل انتظامیہ کی بے شمار خلاف ورزیاں قیدیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
خوراک مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے ناقص ہے، جبکہ بیمار قیدیوں کو دوا اور علاج سے محروم رکھا جاتا ہے۔
قیدیوں میں جلدی امراض بھی بڑھ گئے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے اضافی خطرہ ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ اوفر جیل میں حکام صبح سویرے گدے ہٹا دیتے ہیں اور شام کو واپس کرتے ہیں، جبکہ سیلوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور قیدیوں کو مارپیٹ، بدسلوکی، گالی گلوچ اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
قیدیوں کو بیرونی تفریح اور غسل کے لیے 15 منٹ سے زیادہ وقت نہیں دیا جاتا۔
ان کے پاس کپڑے اور کمبل بھی ناکافی ہیں، ہر قیدی کے پاس صرف ایک جیل یونیفارم اور ایک بیج رنگ کا پاجامہ سیٹ ہوتا ہے۔ قیدیوں کو صفائی اور جراثیم کش سامان رکھنے سے بھی منع کیا جاتا ہے، جو سزا کے دیگر اقدامات میں شامل ہے۔
Source: Admin
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments