ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد کی مذمت کی ہے، جس میں جوہری ’عدم تعاون‘ کے معاملے پر ایران کے معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ قرارداد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی دباؤ کے تحت منظور کی گئی ہے اور ہمارے نزدیک اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکلے گا۔‘
نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے جوہری تنصیبات کی تباہی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے اور پھر ان تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت کا دعویٰ کرتا ہے۔
غریب آبادی نے ایکس پر لکھا: ’وہ پہلے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں جو حفاظتی نگرانی کے نظام کے تحت قائم ہیں، معمول کے تصدیقی عمل میں خلل ڈالتے ہیں اور پھر اسی خلل کو بورڈ آف گورنرز میں قرارداد پیش کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ان من گھڑت دعوؤں کے ذریعے آپ نہ تو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کی ناکامی کی تلافی کر سکتے ہیں اور نہ ہی سلامتی کونسل میں کوئی مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔‘
ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد کی مذمت کی ہے، جس میں جوہری ’عدم تعاون‘ کے معاملے پر ایران کے معاملے کو اقوامِ متحدہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments