کولکاتا میونسپل کارپوریشن نے خوراک کے معیار اور صفائی ستھرائی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے منگل کے روز 40 اور بدھ کے روز مزید 25 فوڈ جوائنٹس اور ریسٹورانٹس کے لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ محض دو دنوں کے اندر کل 65 نامور ریسٹورانٹس، کھانے کی دکانوں اور مٹھائی کی دوکانوں کے خلاف اس بڑی کارروائی سے شہر بھر میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تاہم، شہریوں کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر سوال اٹھا رہا ہے کہ صرف لائسنس معطل کر کے ملزمان کو کیوں چھوڑا جا رہا ہے، اور ان پر مزید سخت قانونی دفعات کیوں نہیں لگائی جا رہی ہیں؟
کولکاتا میونسپل کمشنر اسمتا پانڈے نے بتایا کہ جن فوڈ آؤٹ لیٹس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، وہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے تحت صفائی اور غذائی معیار کے ضابطوں پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان دکانوں کو خود کو درست کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے، اور اگلی بار معائنے کے دوران اگر فوڈ سیفٹی افسران مطمئن ہو گئے تو معطلی واپس لے لی جائے گی۔
آرسالان ): مظفر احمد اسٹریٹ پر واقع آرسالان ریسٹورانٹ کے حکام نے بدھ کے روز پریس کانفرنس کر کے دعویٰ کیا کہ انہیں متعلقہ آؤٹ لیٹ کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔ ان کا آؤٹ لیٹ مرمت کی وجہ سے منگل سے بند ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے تمام آؤٹ لیٹس پر تازہ بریانی اور روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔
بی ایل ساہا روڈ پر واقع اس مشہور مٹھائی کی دوکان کا لائسنس بھی معطل کیا گیا ہے۔ ادارے کے ایک حصے کے ذمہ دار سدیپ نے واضح کیا کہ اس آؤٹ لیٹ سے ان کے برانڈ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ دوسرے حصے کے ذمہ دار رشب نے کہا کہ فیکٹری کے حوالے سے کچھ چیزیں ہٹائی گئی تھیں، لیکن انہیں اب تک کوئی باضابطہ قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔
صرف کولکاتا ہی نہیں بلکہ مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں بھی ملاوٹ اور صفائی کے فقدان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
ہوڑہ: ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کے دائرہ کار میں آنے والے 29 ریسٹورانٹس کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور انہیں قواعد کی پابندی کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن نے خوراک کے معیار اور صفائی ستھرائی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے منگل کے روز 40 اور بدھ کے روز مزید 25 فوڈ جوائنٹس اور ریسٹورانٹس...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments