ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے متعین کیے گئے ’ممنوعہ سمندری علاقے‘ میں توسیع کر دی گئی ہے اور اب اس میں خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے حصے بھی شامل ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی کا کہنا ہے کہ اس ’ممنوعہ علاقے‘ سے بنا اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف ’پابندیاں‘ عائد کی جائیں گی۔
حسین محبی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اعلان کردہ ممنوعہ راستے کے جغرافیائی حدود (کوآرڈینیٹس) بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ممنوعہ حدود چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق جو بھی بحری جہاز اس حدود میں داخل ہوں گے انھیں بعد ازاں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ انھیں قانونی اور انشورنس خدمات بھی فراہم نہیں کی جائیں گی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے متعین کیے گئے ’ممنوعہ سمندری علاقے‘ میں توسیع کر دی گئی ہے اور اب اس میں خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے حصے بھی شامل ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments