نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی وزیر داخلہ کے 2029 تک نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت والی تمام ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے سے متعلق بیان پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بورڈ نے جمعرات کو کہا کہ اس بیان سے ملک کی مذہبی و ثقافتی گوناگونی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
بورڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی جانب سے ’آئین بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہم کے تحت جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے کی اجازت پروگرام سے ایک دن پہلے منسوخ کر دی گئی، جو یک طرفہ اور نامناسب فیصلہ ہے۔ بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے کہا، ’’مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے 2029 تک این ڈی اے کی حکومت والی تمام ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے بیان نے ہندوستان کی مذہبی اور ثقافتی گوناگونی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’مسلمان مسلم پرسنل لا کے تحفظ کو اپنے مذہبی اور آئینی حقوق کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں والا ملک ہے اور آئین اس گوناگونی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس گوناگونی کو متاثر کرنے والی کوئی بھی پالیسی سنگین آئینی سوالات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے وندے ماترم کے تمام بند لازمی طور پر گائے جانے کی کوششوں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ حب الوطنی کے اظہار کے لیے کسی مخصوص گیت کو مکمل طور پر گانا لازمی قرار دینا مذہبی آزادی اور شہری آزادیوں سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی وزیر داخلہ کے 2029 تک نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت والی تمام ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے سے متعلق ب...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments