Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

National

پولیس ہراسانی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے محمد جنید، عدالت سے فوری مداخلت کا مطالبہ

پولیس ہراسانی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے محمد جنید، عدالت سے فوری مداخلت کا مطالبہ

نئی دہلی: جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے دوران کھانے پینے کا بندوبست کرنے والے محمد جنید نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عدالتِ عظمیٰ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے، جس کے پیش نظر عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ محمد جنید نے اپنی درخواست میں ایک سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں دہلی سے زبردستی اٹھایا اور تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ہریدوار کے قریب لے جا کر چھوڑ دیا۔ اس دوران انہیں شدید دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جنید کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے والد، بہن اور سسرالی رشتہ داروں کو بھی پولیس کی جانب سے پریشان کیا جا رہا ہے۔ محمد جنید کا تعلق غازی آباد کے گاؤں نہال سے ہے۔ احتجاج کے دوران وہ کسی رسمی عہدے پر فائز نہیں تھے اور وہ زیادہ تر پردے کے پیچھے رہ کر کام کرتے تھے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری احتجاج میں شامل نوجوانوں کے لیے کھانا، پانی اور رہائش کا بندوبست کرنا تھا۔ اگرچہ وہ کسی تنظیمی عہدے پر نہیں تھے، لیکن تحریک کے اختتام تک وہ مظاہرین میں 'جنید بھائی' کے نام سے مشہور ہو گئے اور اس تحریک کا ایک نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئے۔ جنید اس وقت اخبارات کی سرخیوں میں آئے جب پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اہل خانہ کے مطابق پولیس ان کے والد کو تھانے لے گئی اور بینک پاس بک اور پین کارڈ سمیت کئی اہم دستاویزات اپنے قبضے میں لے لیں۔ اس کے علاوہ اہل خانہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ میرٹھ میں ان کے رشتہ داروں کو بھی پولیس نے ہراساں کیا۔ تاہم، میرٹھ پولیس نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کے کسی بھی تھانے میں رشتہ داروں کی حراست یا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in National

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

10 months ago

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

10 months ago

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

10 months ago

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

9 months ago

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

9 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

10 months ago

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

10 months ago

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

10 months ago

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments