امریکہ میں ایک شخص کو 2022 میں مصنف سلمان رشدی پر حملے کے مقدمے میں وفاقی دہشت گردی کے الزامات پر مجرم قرار دیا گیا، جنہیں ان کے ناول ’دی سٹینک ورسز‘ کی وجہ سے دہائیوں سے موت کی دھمکی کا سامنا رہا ہے۔ امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جیوری نے چند گھنٹوں کی بحث کے بعد ہادی مطر کو تمام الزامات میں قصوروار پایا، جن میں بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونا بھی شامل ہے۔ رشدی، جو مصنفین کی حفاظت پر تقریر کرنے والے تھے، 2022 میں سٹیج پر 15 بار چاقو کے وار سے زخمی ہوئے۔ اس حملے میں ان کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی۔ استغاثہ نے کہا کہ مطر کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے 1989 کے فتویٰ نے متاثر کیا تھا، جس میں رشدی کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ ’یہ حملہ ایرانی دہشت گردی کے عالمی اثرات کی یاد دہانی ہے۔‘ تاہم ایران کی حکومت نے اس حملے میں کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔ دفاع کے وکیل نے کہا کہ حکومت کے پاس مطر کے ذہنی ارادوں کا کوئی ثبوت نہیں۔ مطر نے عدالت میں گواہی دینے سے انکار کیا، جبکہ رشدی نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا اس کا مقصد کیا تھا، لیکن زخم میرے جسم کے مختلف حصوں پر لگے۔‘ 28 سالہ مطر پہلے ہی نیویارک میں اقدامِ قتل کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اب اسے وفاقی عدالت میں عمر قید کا سامنا ہے۔ رشدی نے 1981 میں اپنے ناول ’مِڈ نائٹس چلڈرن‘ پر برطانیہ کا بوکر انعام جیتا۔ ’دی سٹینک ورسز‘ 1988 میں شائع ہوا، جسے برطانیہ میں سراہا گیا لیکن دنیا بھر میں کئی مسلم حلقوں نے اسے توہین آمیز سمجھا۔ اس کتاب پر ہونے والے احتجاجات میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے، جاپانی مترجم قتل ہوا، اور دیگر مترجمین و ناشرین پر حملے ہوئے۔ رشدی نے کہا کہ کتاب میں شامل خواب محض ایک تخیلاتی منظر تھا۔ وہ کئی سال تک روپوش رہے، یہاں تک کہ ایران نے 1998 میں فتویٰ سے فاصلہ اختیار کیا۔ تاہم فتویٰ کبھی واپس نہیں لیا گیا، اور بعد میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اس کے برقرار رہنے کا اشارہ دیا۔ ایک ایرانی ادارے نے رشدی کے قتل پر 30 لاکھ ڈالر سے زائد انعام رکھا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق مطر نے 2021 اور 2022 میں پیغامات میں رشدی کے خلاف غصہ ظاہر کیا اور اسے قتل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے کمرے اور کمپیوٹر سے حزب اللہ کی حمایت کے شواہد بھی ملے۔ امریکی وکیل نے کہا کہ مطر نے مہینوں تک رشدی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ بالآخر اگست 2022 میں نیویارک کے ایک ادارے میں رشدی کی تقریر کے دوران مطر نے سٹیج پر حملہ کیا۔ حاضرین اور دیگر افراد نے رشدی کی مدد کی جبکہ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ رشدی نے 2024 میں اس حملے پر ایک یادداشت شائع کی اور بعد میں دوبارہ افسانوی ادب کی طرف لوٹے۔ انہیں برطانیہ کی ملکہ نے ’سر‘ کا خطاب دیا اور 2024 میں امن کے لیے ادبی انعام بھی ملا۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments