کرناٹک نے کابینی آبی ذخیرے سے تقریباً 12000 کیوسک پانی چھوڑا ہے، امید ہے کہ تمل ناڈو کو پیر کے روز سے پانی ملنے لگے گا۔ دریائے کاویری کے آبی ذخیرہ علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے کابینی آبی ذخیرے میں پانی کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) کے حکام نے بتایا کہ چھوڑا گیا پانی پیر تک کرناٹک- تمل ناڈو سرحد پر واقع بلی گنڈلو گیجنگ اسٹیشن تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد یہ پانی میتور آبی ذخیرے کی طرف بڑھے گا، جہاں منگل یا بدھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حالانکہ حکام نے خبردار کیا کہ پانی کے پہنچنے کا درست وقت دریا کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ حالیہ دنوں میں کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان دریائے کاویری کے کئی حصے نسبتاً خشک رہے ہیں، جس کی وجہ سے پانی کے بہاؤ کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ ڈبلیو آر ڈی کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ دریا کے راستے میں بھاپ بننے اور پانی جذب ہونے سے ہونے والے نقصان کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ایسے میں یہ بتانا مشکل ہے کہ چھوڑا گیا پانی میتور آبی ذخیرے تک کب پہنچے گا۔ پانی چھوڑنے کا یہ فیصلہ دونوں ریاستوں کے درمیان جاری ’کاویری آبی تقسیم‘ کے تنازعہ کے درمیان کیا گیا ہے۔ ادھر مسلسل بارش کی وجہ سے کرناٹک کے اہم آبی ذخائر میں پانی کے ذخیرے میں بھی بہتری آئی ہے۔ 19516 ملین کیوبک فٹ (ایم سی ایف ٹی) گنجائش والے کابینی آبی ذخیرے میں یکم جولائی کو صرف 26.59 فیصد پانی موجود تھا، جبکہ اس وقت پانی کی آمد 1988 کیوسک تھی۔ آبی ذخیرہ علاقے میں مسلسل بارش کی وجہ سے 15 جولائی تک اس کا ذخیرہ بڑھ کر 61.63 فیصد ہوگیا۔31 جولائی تک کابینی آبی ذخیرہ اپنی مجموعی گنجائش کے 82.65 فیصد تک بھر چکا تھا، جبکہ پانی کی آمد بڑھ کر9133 کیوسک ہو گئی تھی۔ تمل ناڈو کے حکام کا کہنا ہے کہ کرناٹک نے کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی اور کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ہدایات کے باوجود پانی چھوڑنے میں تاخیر کی۔ کاویری بیسن میں شدید بارش کی وجہ سے کرشن راج ساگر (کے آر ایس) آبی ذخیرے میں بھی پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر پانی کی بھاری آمد جاری رہی تو مزید پانی چھوڑنا ضروری ہو سکتا ہے۔ پانی کی مقدار میں کسی بھی اضافے سے تمل ناڈو خصوصاً کاویری ڈیلٹا کے کسانوں کو راحت ملنے کی امید ہے، جو فصل کے موسم سے پہلے پانی کی دستیابی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر ہفتے کے روز میتور آبی ذخیرے میں 35.774 ٹی ایم سی ایف ٹی پانی موجود تھا، جو اس کی مجموعی 93.470 ٹی ایم سی ایف ٹی گنجائش کا 38.27 فیصد ہے۔ ڈبلیو آر ڈی کے حکام نے بتایا کہ آبی ذخیرے کے پانی کی سطح اور بالائی علاقوں سے چھوڑے جانے والے پانی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments