بالی ووڈ اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ بی جے پی کی ’کٹھ پتلی‘ نہیں ہیں اور ان کی اپنی شناخت اور نظریات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی آج ان کے ساتھ ہے، لیکن ضروری نہیں کہ کل بھی ساتھ ہو۔
کنگنا سے جب پوچھا گیا کہ ان کے جارحانہ یا سخت بیانات کیا بی جے پی کی آفیشل لائن ہوتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد پارٹی سے الگ ہونا نہیں ہے۔ تاہم جب کسی معاملے پر بہت زیادہ شور ہو تو انہیں بھی اپنی آواز بلند کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ سخت بیانات دے دیتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جان بوجھ کر پارٹی سے اختلاف کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں اپنی رائے رکھنے کا حق ہے اور وہ کسی کی کٹھ پتلی نہیں ہیں۔
کنگنا نے اپنے سیاسی مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ دو سال سے رکن پارلیمنٹ ہیں، جبکہ ایک اداکارہ کے طور پر ان کی شناخت گزشتہ 20 سال سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی شخصیت اور وجود ہے، جسے صرف سیاست سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مستقبل میں بی جے پی کسی معاملے پر ان کے ساتھ نہ ہو تو بھی ان کی اپنی شناخت ختم نہیں ہو جائے گی۔
جب کنگنا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں بی جے پی چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سناتنی ہیں اور جب تک سیاست میں رہیں گی، بی جے پی کے ساتھ ہی رہیں گی۔
آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے کے امکان کے بارے میں کنگنا نے کہا کہ انہیں اس کا خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اداکارہ، فلم ساز اور مصنفہ ہیں اور انہیں اپنے کام سے محبت ہے۔ ان کے مطابق آج بھی کئی فلم ڈائریکٹرز انہیں اپنی پسندیدہ اداکارہ سمجھتے ہیں اور ان کے پاس سیاست کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کے لیے ہے۔ کنگنا کے اس بیان کو ان کے سیاسی مستقبل اور بی جے پی کے ساتھ ان کے تعلقات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی برقرار ہے، لیکن وہ اپنی ذاتی رائے اور شناخت سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتیں۔
بالی ووڈ اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments