ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور معاون محمد مخبر نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت کے بغیر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے، باوجود اس کے کہ اس کی صلاحیتوں کے بارے میں بہت تشہیر کی جاتی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق محمد مخبر نے پیر کو ایک مکالماتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا کہ صہیونی نظام امریکہ سے آزاد ہے، محض ایک مذاق ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ، نیٹو اور دیگر طاقتیں بھی ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئیں۔ ان کے بقول یورپی ممالک میں قائم امریکی اڈے اور برطانوی فوجی اڈے امریکہ کے اختیار میں ہیں اور وہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں انہی وسائل کو استعمال کر رہا ہے۔
محمد مخبر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے 10 فیصد اہداف بھی حاصل نہیں کیے جا سکے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ایران کسی جنگ میں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوا، بلکہ ان کے بقول موجودہ حکومت کے دور کے سوا ایران تمام جنگوں میں شکست کھا چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ملک کے باقی حصوں کو بچانے کے لیے آبنائے ہرمز سے دستبردار ہو جانا چاہیے، لیکن اسی منطق کے تحت ترکمانچائے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں ملک کے کچھ حصے کھو دیے گئے۔
یہ بیانات خصوصاً اسرائیل کے حوالے سے ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے گزشتہ رات ایک بار پھر کہا کہ وہ جلد یا بدیر ایران کے خلاف اپنا مشن مکمل کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کا مقصد ایرانی نظام کا خاتمہ ہے۔یہ بیانات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس اعلان کے بعد بھی سامنے آئے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی تازہ ترمیم شدہ تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔
عراقچی نے ایرانی شرائط کو معقول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرائط پہلے بھی پیش کی گئی تھیں، جب گزشتہ جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا۔
گزشتہ 28 فروری کو تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مفلوج ہو گئی۔ اس گزرگاہ سے دنیا کی مجموعی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی سخت بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ادھر سفارتی کوششیں اب تک امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ گزشتہ موسمِ گرما میں اسلام آباد میں طے پانے والا ابتدائی معاہدہ ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور معاون محمد مخبر نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت کے بغیر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے، باوجود اس کے کہ اس کی صلاحیتوں کے بارے میں بہت تشہیر ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments