ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ کا نام لے کر ان پر تنقید کی اور کہا کہ ’ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔‘
ایرانی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کی گذشتہ روز کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ دھمکیاں ایرانی قوم کو متحد کرتی ہیں۔ ایران جارحیت کرنے والوں کو پچھتانے پر مجبور کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور وہ لوگ جو ہمیں دھونس کے ذریعے جھکانا چاہتے ہیں، انھیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا آغاز میناب سکول پر امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھا کر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایٹم بم اسرائیل کے پاس ہے لیکن وہاں کبھی معائنہ نہیں کیا گیا جبکہ ایران کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل ہلاکتیں کرتا ہے مگر پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔‘
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں تاہم وہ ’جوہری سائنس‘ اور ’پُرامن ٹیکنالوجی‘ کے حصول سے دستبردار نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایران یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جوہری علم چند ممالک کی اجارہ داری ہو۔‘
مسعود پزیشکیان نے مزید کہا کہ ’ایران یہ اجازت نہیں دے گا کہ ہم سے جہاز رانی کا حق چھین لیا جائے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے پانیوں میں بھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ساحلی ریاستوں کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر جہاز رانی کی سلامتی حاصل نہیں کی جا سکتی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس خطے میں کوئی بھی تنہا محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا پھر ہم سب مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔‘
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ کا نام لے کر ان پر تنقید کی اور کہا کہ ’ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments