Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

ایران کا کویت میں امریکی اڈے پر جوابی حملے کا دعویٰ

ایران کا کویت میں امریکی اڈے پر جوابی حملے کا دعویٰ

ایران نے کویت میں امریکی علی السالم اڈے پر جوابی حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق علی السالم امریکی اڈے پر 2 ڈرون حملے کیے گئے جس میں ہینگر اور ایندھن ڈپو کو تباہ کر دیا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ خطہ چھوڑنے تک امریکی فوج پر حملے جاری رہیں گے، کویت کےعوام جان لیں، امریکی قبضہ ختم ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دوران شدید نقصان اٹھانے والے امریکی فوجی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق 8 جولائی سے 22 جولائی تک جاری رہنے والے پندرہ روزہ طاقتور ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈار اور فضائی دفاعی شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی سسٹمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 6 ریڈار، ابتدائی وارننگ اور نگرانی کے متعدد ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پیٹریاٹ نظام کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق لاجسٹک اور معاونت کے شعبے میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے 12 بڑے ذخائر، ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے 17 گودام اور میزائلوں کے 6 ذخیرہ خانے تباہ کیے گئے تاکہ امریکی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔ قطر نے اردن اور کویت پر ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اسے کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ قطر کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کا تسلسل صورتِ حال کو خطرناک حد تک بگاڑ سکتا ہے، جس سے کشیدگی پر قابو پانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جائیں گی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سیاسی اور سفارتی اقدامات متاثر ہوں گے۔‘ قطر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments