نیویارک: ایران اور یوکرین نے باہمی کشیدگی کم کرنے اور رابطے کے موجودہ ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اپنے یوکرینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی، یوکرینی وزیر خارجہ نے ملاقات کی تصویر بھی ایکس پر شیئر کی، اور لکھا کہ سفارت کاری مشکل حالات میں بھی براہِ راست بات چیت کا نام ہے۔
دونوں رہنماؤں میں گفتگو کا محور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے باہمی اقدامات تھے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا ہم نے موجودہ رابطہ ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی صورت حال اور جاری امن کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور یوکرین نے دونوں خطوں میں امن و استحکام کی بحالی کی حمایت کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ جولائی 2026 میں یوکرین کی جانب سے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا اور براہ راست تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
27 جولائی کو ایران کے وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔
نیویارک: ایران اور یوکرین نے باہمی کشیدگی کم کرنے اور رابطے کے موجودہ ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments