امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں پُرتشدد مظاہروں میں شدت آنے پر فرانسیسی حکومت کو فوری طور پر سرحدیں بند کرنے کی تجویز دے دی۔
صدر ٹرمپ نے فرانس میں ہنگاموں اور پرُتشدد احتجاج کا ذمہ دار تارکین وطن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں تارکینِ وطن نے قبضہ کرلیا ہے۔
سوشل ٹروتھ پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ فرانس پر تارکین وطن قابض ہو گئے ہیں اور فرانس فوری طور پر اپنی سرحدیں بند کر دے۔
فرانس میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، دارالحکومت پیرس سمیت مارسی، ٹولوز، لیون اور لیل سمیت کئی بڑے شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
مشتعل مظاہرین نے ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری املاک، کاروباری اور تجارتی مراکز کو نذرآتش کر دیا ہے۔
ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سو چالیس (140) سال پرانا تاریخی بیل ٹاور بھی آگ لگنے کے باعث زمین بوس ہو گیا۔
احتجاج کی شدت کے باعث پیرس میں میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے گئے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
مظاہرین نے شہر کے سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی جبکہ مشتعل ہجوم میئر کے دفتر میں زبردستی گھس گیا اور وہاں شدید توڑ پھوڑ کی اور کئی علاقوں میں دکانوں کے شیشے توڑ کر بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی وارداتیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ملک کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج اور اختلافِ رائے کے حق کا احترام کرتے ہیں، لیکن مظاہرین کی آڑ میں پرتشدد کارروائیوں اور تخریب کاری کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین اور تخریب کاروں میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔
صدر میکرون نے اعلان کیا کہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، ان کے خلاف سخت مقدمات چلائے جائیں گے اور قانون کے مطابق کڑی سزائیں دی جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں پُرتشدد مظاہروں میں شدت آنے پر فرانسیسی حکومت کو فوری طور پر سرحدیں بند کرنے کی تجویز دے دی۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments