امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو جنگ نہیں سمجھتے حالانکہ چھ ماہ قبل اس کے شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک جھڑپیں جاری ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائب صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے ان کی حکومت کو طویل عرصے سے الجھا رکھا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس سے پوچھا گیا کہ آیا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک جنگ ختم ہو جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس کو جنگ نہیں کہوں گا، اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔‘
’میں مانتا ہوں کہ کچھ مقامات پر تنازع دوبارہ بھڑکا ہے تاہم 28 فروری کے بعد بڑی جنگی کارروائیاں صرف چھ ہفتے ہی جاری رہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ پوچھتے ہیں کہ یہ کب ختم ہو گا تو لگتا ہے آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایرانی بحری جہازوں پر حملے کب بند کریں گے، یہ بات آپ کو ان سے ہی پوچھنی چاہیے۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان کئی روز تک صورت حال پرسکون رہنے کے بعد اتوار کو ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ ایران ابھی تک سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت رکھے ہوئے ہے۔
جے ڈی وینس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت تک ایران کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک وہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا۔
ایران جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے لیے کانگریس پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ان کی انتظامیہ نے ایسا تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل اب جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو جنگ نہیں سمجھتے حالانکہ چھ ماہ قبل اس کے شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک جھڑپیں جاری ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments