بہار کے جموئی میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے معاملے کے بعد سیاسی بیان بازی بھی شروع ہو گئی ہے۔ جے ڈی یو کے بہار ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے اس واقعے کو ’چھٹ پٹ واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کا موازنہ لالو پرساد یادو کے دور سے کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت کو حساس قرار دیا۔
جموئی-لکھی سرائے سرحد پر ایک ساتھ گھوم رہے نابالغ لڑکے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں میں ناراضی دیکھی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں کچھ افراد دونوں کو روکتے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی معاملے پر جے ڈی یو کے ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی چھٹ پٹ واقعہ پیش آتا ہے تو حکومت اس پر کارروائی کرتی ہے۔انہوں نے اپنی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی موجودہ حکومت حساس ہے۔
اومیش کشواہا نے اپنی حکومت کا موازنہ 2005 سے پہلے کے بہار سے کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ریاست کے حالات کیسے تھے، یہ سب نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے بھی خوف محسوس کرتے تھے اور کسی طرح اپنی زندگی گزار رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے جموئی کے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جائے گی۔
جے ڈی یو ریاستی صدر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کے بیان کو غیر حساس قرار دیا اور واقعے کو ’چھٹ پٹ واقعہ‘ کہنے پر سوال اٹھائے۔
بہار کے جموئی میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے معاملے کے بعد سیاسی بیان بازی بھی شروع ہو گئی ہے۔ جے ڈی یو کے بہار ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے ا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments