بہار کے جموئی ضلع میں بائیک سوار لڑکے-لڑکی کو راستے میں روک کر مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ نازیبا سلوک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بہار کے جموئی کی ایک ویڈیو بہت بے چین کرنے والی ہے۔ دسویں جماعت کے ایک طالب علم اور طالبہ کو راستے میں زبردستی روک لیا گیا۔ انہیں ہراساں کیا گیا، ذلیل کیا گیا اور طالبہ کا استحصال کیا گیا۔ بچی ہاتھ جوڑ کر اسے جانے دینے کی التجا کرتی رہی، مگر غنڈے اسے غلط طریقے سے چھوتے رہے اور نازیبا حرکت کرتے رہے۔‘‘
اپنی ایکس پوسٹ میں راہل گاندھی نے یہ بھی لکھا کہ ’’ان لوگوں کو ایسی بدتمیزی کرنے کا حق کس نے دیا؟ یہ ثقافت نہیں بلکہ پدرشاہی ہے۔ یہ سوچ کہ کسی بھی مرد کا کسی لڑکی کے جسم، اس کے آنے جانے اور اس کی پسند و ناپسند پر کنٹرول ہے۔ جب کنٹرول کو ہی ثقافت مان کر ’اندھ بھکت‘ ایسی سوچ کو عام ٹھہراتے ہیں تو بھیڑ کو لگنے لگتا ہے کہ وہی قانون ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اس ویڈیو میں نظر آ رہے ہر شخص کی شناخت ہونی چاہیے اور ان ملزمان پر پاکسو کے تحت مقدمہ چلا کر انہیں جلد از جلد سزا ملنی چاہیے۔ اور بہار حکومت جواب دے کہ شام 7 بجے کوئی لڑکی ریاست کی سڑکوں پر محفوظ کیوں نہیں ہے؟‘‘
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جموئی کی وائرل ویڈیو پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا کہ ’’بہار کا جنگل راج۔ جموئی کے کچھ درندوں نے نابالغ لڑکی اور لڑکے ساتھ بدتمیزی کی۔ درندوں کے سامنے لڑکی ہاتھ جوڑتی ہے اور فریاد کرتی رہی لیکن وہ لڑکی نوچتے-دبوچتے رہے۔‘‘ ساتھ ہی لکھا کہ ’’آج بہار کی بی جے پی حکومت میں بچیاں اور خواتین غیر محفوظ ہیں۔ لا اینڈ آرڈر مکمل طور سے تباہ ہو چکا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بہار کے جموئی ضلع میں بائیک سوار لڑکے-لڑکی کو راستے میں روک کر ہراساں کیے جانے کا معاملہ جموئی ٹاؤن تھانہ کے مڑوا گاؤں کا بتایا جا رہا ہے۔ واقعہ سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزری وائرل ہو رہی ہے۔ جموئی کے ایس پی وشوجیت دیال کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ واقعہ 19 ستمبر کی شام 7 بجے کی ہے۔ ویڈیو میں 6 سے 7 لوگ نظر آ رہے ہیں اور ان میں سے کچھ کی پہچان کر لی گئی ہے۔ جموئی پولیس کی ٹیم نے معاملے میں چھاپے ماری کر 3 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی شناخت مڑواں گاؤں کے متھلیش، پرمود اور گولو کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں کی عمر تقریباً 24 سے 26 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ویڈیو میں نظر آ رہے دیگر لوگوں کی بھی شناخت کی جا رہی ہے۔
بہار کے جموئی ضلع میں بائیک سوار لڑکے-لڑکی کو راستے میں روک کر مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ نازیبا سلوک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments