اسرائیلی ریاست نے بے گھر فلسطینیوں سے غزہ خالی کرانے کے لیے اپنے انتہائی منفی اور بدبودار اقدمات جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر غزہ میں تعفن سے بھرے بلبلے داغنے کی مشق شروع کر رکھی ہے۔
اس انتہائی بدبودار مواد کو غزہ کے مختلف علاقوں میں پھینکنے کی اس مہم کا تازہ انکشاف 23 ستمبر کو اس وقت ہوا جب غزہ شہر میں جنگ زدہ فلسطینی خاتون ہالہ الخشام کی صبح سے پہلے انتہائی تکلیف دہ بدبو سے آنکھ کھل گئی تو اس نے اپنی رہائش کی جگہ کے اردگرد ہر کونا چھان مارا لیکن اسے کہیں بھی اس سرانڈ کا منبع نہ مل سکا۔
یہ ایک ناقابل برداشت تکلیف تھی جس سے جنگ زدہ غزہ کی یہ فلسطینی خاتون علی الصبح دوچار ہوئی۔ بعد ازاں اس نے اپنی اس صورتحال کا تذکرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'انسٹاگرام' پر کیا تو غزہ کے بعض دیگر علاقوں سے بھی 'انسٹاگرام' کے صارفین نے اپنے اسی طرح کے برے تجربات کا حوالہ دیا۔ جس سے اندازہ ہوا کہ اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی بھی ہتھکنڈے تک جانے کا ارادہ کیے ہوئے ہے اور بدبودار مواد کی غزہ پر برسات کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ ہالہ کے علاوہ بھی کئی سوشل میڈیا صارفین اس تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ ہالہ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی فوج کے اس حد تک جانے کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے سوال کرنا شروع کیا کہ یہ کسی حقیقی وجہ سے پھیلی بدبو ہے یا اسے مصنوعی طریقے سے پھیلایا گیا ہے۔ تاہم بعد ازاں جب مختلف علاقوں سے رپورٹس ملنا شروع ہوئی تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ سب اسرائیلی ریاست کی پھیلائی ہوئی بدبو ہے جو علاقے کو تعفن زدہ کر رہی ہے۔
ایسی رپورٹ بھی سامنے آئیں کہ اسرائیلی ڈرونز کو ایسے بلبلے فضا میں چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے جن کے پھٹنے سے یہ بدبو پھیلنے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری فضا کو تعفن زدہ کر ردیتی ہے۔
مقامی صحافیوں نے ان اسرائیلی بلبلوں کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔
التفاح اور الدرج کے علاقوں میں بھی اسرائیل کی طرف سے ایسےتعفن پھیلانے والے بلبلوں کے گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ان صحافیوں کے مطابق اسرائیلی ڈرون طیارے یہ بدبودار بلبلے نیچے گراتے ہیں اوربعد ازاں یہ بلبلے پھٹ کر علاقے میں تعفن پھیلا دیتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق غزہ کے علاوہ دیگر فلسطینی علاقوں میں بھی اسرائیلی یہی کام کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ بیت لاھیہ اورشمالی غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی اس نوعیت کے بلبلے دیکھے گئے ہیں۔ وہاں بھی اسرائیلی فوج کی بد ترین اور انسانوں کے لیے انتہائی ناگوار بد بو کا چھڑکاؤ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رکنیت پانے والی یہ واحد اسرائیلی ریاست ہے جو انسان دشمنی میں ہر حد سے آگے گزرنے والی واحد شناخت رکھتی ہے۔
غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے لیے اسرائیل ملبے کے ڈھیروں پر رہنے کو بھی ناممکن بنانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ تاکہ یہ فلسطینی سانس بھی آسانی سے نہ لے سکیں۔ تاہم اسرائیل اس امر کی تردید کرتا ہے کہ وہ جنگی جرائم انسانی دشمنی اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث نہیں ہے۔
اسرائیلی ریاست کی ایک خاص قسم کی بد بو سے یہ علاقہ پہلےسے آگاہ ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے ایک عرصے سے فلسطینیوں کے لیے مغربی کنارے میں بھی استعمال کر رہا ہے۔ اب یہ بد بو اسرائیلی ریاست کی خاص شناخت بن چکی ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے 2009 میں اس تعفن پھیلانے والی بدبو کا استعمال فلسطینی علاقوں بیلین ، نیلین ، کفر قدوم ، نبی صالح میں بھی کیا تھا۔ اس امر کی تصدیق پروفٹ ریسرچ سنٹر کی مرتب کردہ رپورٹ سے بھی ہو چکی ہے۔
اس ادارے کے مطابق یہ کیمیکل اسرائیلی پولیس اور ایک اسرائیلی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے تاکہ فلسطینیوں کو اذیت سے دوچار کیا جا سکے۔ انسانوں کے خلاف ان غیر انسانی حربے پر اسرائیل کو انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ اس کیمیائی اثرات کی حامل واردات کے اثرات غیر معمولی ہوتے ہیں۔ شہریوں کو متلی اور قے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھروں اور گاڑیوں یا دفاتر میں جہاں بھی اس کا استعمال اسرائیلی سیکیورٹی فورسز فلسطینیوں کے خلاف کرتی ہیں وہاں کئی کئی ہفتے اس بدبو کے اثرات جاری رہتے ہیں۔
اس کی موجودگی میں کھانا پینا تک ممکن نہیں رہتا ، حتیٰ کہ سانس لینے میں انتہائی دشواری ہوتی ہے۔ مشرقی یروشلم کے دسیوں ہزار فلسطینیوں کو اس اذیت ناک اسرائیلی حربے کا بار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس بد بو کی موجودگی میں سونا بھی ممکن نہیں رہتا ۔ یہ انسانیت کے خلاف ایسا جرم ہے جو انسانوں کو بے توقیر بھی کرتا ہے ا ور انہیں بد ترین اذیت دینے کا بھی اسرائیلی حربہ ہے۔
اسرائیلی ریاست نے اپنے سیکیویرٹی اہلکاروں کو حفاظتی تدابیر کے لیے آگاہ کیا ہے کہ جن فلسطینیوں کے علاقوں میں اسرائیلی بدبو پھیلا رہے ہوں وہاں اسرائیلی سیکورٹی اہلکار خصوصی اہتمام سے اپنا بچاؤ کریں۔ کہ اس بد بو کی وجہ سے ان کی حالت بھی غیر ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ یہ اسرائیلی بدبو پھیلانے میں بروئے کار عملے کو بھی سخت حفاظتی تدابیر کے لیے کہا گیا ہے۔ انہیں ہائی کوالٹی فلٹر استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے۔
البتہ ایک مغربی نشریاتی ادارے نے اسرائیلی حربے کو قانون کی زد سے بچانے کے جذبے پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے مطاق یہ بدبو محض کھانے کی اشیا سے تیار کی گئی ہے۔ اس لیے نقصان دہ نہیں۔ اس میں خمیر پیدا کرنےکے لیے استعمال ہونے والا بیکنگ پاؤڈر اور پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے اثرات کئی دنوں تک کپڑوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اس اسرائیلی واردات کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے اسرائیلی سیکیویرٹی اداروں اور حکومت نے اس آمیزے کے اجزاء کو ایک بھید بنا رکھا ہے اور کسی کے سامنے اس کے اجزا نہیں لائے جاتے۔ البتہ جن لوگوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے انہیں اپنے جسم اور جلد میں شدید جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ سانس لینے میں دقت آتی ہے۔ کھانسی بار بار آنے لگتی ہے۔
وسطی غزہ کے ایک خیمے میں رہنے والی ایک سابقہ فلسطینی فنکارہ میاسا یوسف کے مطابق جس علاقے میں اس کا خیمہ ہے وہاں کی رات کا موسم عام طور پر خوشگوار ہو جاتا ہے، ہلکی ٹھنڈی ہوائیں مشرق کی جانب سے آتی ہیں۔ لیکن اچانک اس دوران یہ بد بو اسرائیلی حملے کی صورت میں ہر سمت پھیل جاتی ہے۔
انہوں نے دو ماہ قبل اس بد بو کی ایک یلغار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ایسی ہی ایک رات جب خوب اچھی خوشگوار ہوا چل رہی تھی تو اسرائیلیوں نے خیموں اور ملبے پر رہنے والے فلسطینیوں کو قدرتی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا سے استفادہ کرنے کا حق نہ دیا اور ہر طرف بد بو پھیلا دی۔
فلسطینی فنکارہ کہتی ہیں میں نے اپنے شوہر سے کہا ایسا لگا ہے جیسے کسی نے خطے میں بدبو اور تعفن کا گڑھا قائم کر دیا ہے۔ اللہ رحم کرے یہ کیسی اذیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ پریکٹس اسرائیلی اکثر کرتے ہیں۔ جب موسم خوشگوار ہو تو اس کا اسرائیلی سیکیورٹی فورسز جان بوجھ کر استعمال کرتی ہیں۔
اسرائیلی ریاست نے بے گھر فلسطینیوں سے غزہ خالی کرانے کے لیے اپنے انتہائی منفی اور بدبودار اقدمات جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر غزہ میں تعفن سے بھرے بلبلے داغنے کی مشق شروع کر رکھی ہے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments