عالمی شہرت یافتہ امیر ترین شخص ایلون مسک ایک بار پھر امریکی حکومت کا حصہ بنیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں دوبارہ شمولیت کی وجہ یہ بن رہی ہے کہ وہ پینٹاگون اور مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے امور کا مطالعہ کریں۔
ایلون مسک اس سے پہلے حکومتی کارکردگی اور مستعدی کو بڑھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں بطور وزیر کام کر چکے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ساتھ بعض امور پر اختلاف کی وجہ سے حکومت سے الگ ہوگئے تھے۔
کانٹیگو میں فوجی اڈے پر ایک خطاب میں پینٹاگون کے سربراہ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا پروجیکٹ میریڈیئن مستقبل کی جنگوں کی تیاری اور حکمت عملی کے حوالے سے بہترین دماغوں کو جمع کرنے اور غور و فکر کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کو شریک سربراہ کے طور پر ایلون مسک دیکھیں گے۔ جبکہ ان کے ساتھ دوسرے شریک سربراہ پالمر لکی ہوں گے۔ 34 سالہ پالمر لکی ڈیفنس ٹیکنالوجی کمپنی 'اینڈوریئل انڈسٹریز' کے بانی ہیں۔ ان کے علاوہ تیسرے شریک سربراہ 83 سالہ ریپیبلکن رہنما اور ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گینگریج ہوں گے۔
ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپس لانے کے لیے ان کی مدد کی تھی لیکن بعد ازاں جب اخراجات سے متعلق قانون سازی کا مرحلہ آیا تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کو چھوڑ کر چلے گئے جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا دھچکا تھا۔
وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد ایلون مسک نے دوبارہ سے ریپیبلیکن پارٹی کو لاکھوں ڈالر کے عطیات دیے۔ حتیٰ کہ انفرادی سطح پر بھی امیدواروں کو ڈونیشنز دیں اور ان کی حمایت کی۔
وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ نے کہا اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے جنگی چیلنجوں اور اہداف کو ایک خاص تخلیقی انداز سے دیکھنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح ہم اپنی استعداد کو بالاتر رکھنے کے لیے کام کر سکتے ہیں تاکہ ہم ہمیشہ فتح مند رہیں۔
اس منصوبے کے لیے نجی شعبے سے بڑے اور نامور لوگوں کو لیا گیا ہے تاکہ جدت اور معیار کے حوالے سے اعلیٰ ترین اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ایسے لوگوں کو لیا جائے جو تعلیم ، پالیسی اور نظام کو تخلیق کرنے اور چلانے میں بھی غیر معمولی طور پر مسلمہ حیثیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے زیر نگرانی اس منصوبے کی رپورٹ چار ماہ میں جمع کرادی جائے گی۔
عالمی شہرت یافتہ امیر ترین شخص ایلون مسک ایک بار پھر امریکی حکومت کا حصہ بنیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں دوبارہ شمولیت کی وجہ یہ بن رہی ہے کہ وہ پینٹاگون اور مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments