گواہاٹی: آسام میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سیلاب کی صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے۔ اگرچہ پانی اترنا شروع ہو گیا ہے، لیکن انتظامیہ کے سامنے اب بھی کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ کچھ علاقوں میں رہائشی اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، لیکن حالات ایسے ہیں کہ فی الحال وہاں رہنے کے قابل ماحول نہیں ہے۔ لوگ اپنے بچوں کھچے سامان اور وسائل کے ساتھ دوبارہ مکانات کی مرمت کے کام میں جٹ گئے ہیں۔ ریاست کے سات اضلاع کے متعدد علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے اب تک 82 افراد کی جانیں جا چکی ہیں। وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کو کس طرح دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیا جائے اور ان کی بحالی کا کیا انتظام ہو، اس کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی موجودہ ترجیح اور اصل مقصد سیلاب متاثرین کی بحالی اور انہیں محفوظ طریقے سے گھر واپس لانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ سیلاب کا پانی کم ہو رہا ہے اور لوگ اپنے مکانات کی طرف رخ کر رہے ہیں، تاہم اب بھی ایک بڑی تعداد ریلیف کیمپوں میں مقیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی سامان کی تقسیم اور معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے معمولات کو دوبارہ بحال کرنا، نیز متاثرہ اسکولوں، کالجوں اور آنگن واڑی مراکز سمیت مختلف سرکاری اداروں کو ان کی اصل حالت میں واپس لانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’متاثرہ اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز جیسے اداروں کی مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے۔ سیلاب کے باعث ریاست میں کتنا نقصان ہوا ہے، آنے والی 7 اگست سے اس کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کیا جائے گا۔‘‘ ریاست میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دو اضلاع شیو ساگر اور چرائے دیو ہیں۔ ان دونوں مقامات پر متاثرہ اسکولوں کی مرمت کے لیے وزیراعلیٰ نے 2 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آنگن واڑی مراکز کے لیے ڈھائی لاکھ روپے کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہمنتا بسوا شرما نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کو کس طرح جلد از جلد معمول کی حالت میں واپس لایا جائے، اس پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ صرف شیو ساگر ضلع میں ہی 550 اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں جولائی کے مہینے کا بجلی کا بل معاف کر دیا جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ان اضلاع میں اس سال کے لیے پراپرٹی ٹیکس (ہاؤس ٹیکس) بھی معاف کر دیا جائے گا۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments