اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء کے پرنسپل اور معروف اسلامی اسکالر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا بدھ (7 اکتوبر) کی دوپہر تقریباً 3 بجے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر تقریباً 94 سال تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سے ندوہ احاطے میں سوگ کا ماحول ہے۔ اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو بھی پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ رہے۔ انہوں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں بچوں کو پڑھانے کا کام بھی کیا۔ وہ ادارے کے پرنسپل بھی رہے۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر ندوہ دورے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’لکھنؤ کے ندوہ کالج کے پرنسپل، ہر دلعزیز مولانا سعید الرحمن اعظمی صاحب کی ہم سب کے درمیان سے ہمیشہ کے لیے رخصتی کی خبر انتہائی غمگین کرنے والی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اپنوں کی انجمن سے ایک انصاف پسند اور نہایت نیک انسان ہمیشہ کے لیے کہیں چلا گیا ہو۔ خراج عقیدت۔‘‘
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق مولانا سعید الرحمن اعظمی کے قریبی لوگوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش لکھنؤ میں ہی ہوئی تھی اور انہوں نے ندوہ سے تعلیم حاصل کی۔ پھر اسی ادارے میں طلبہ کو پڑھایا۔ ندوہ سے وابستہ عالم نقوی نے بتایا کہ مولانا ان کے استاذ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ندوۃ العلماء کی آج جو شناخت ہے، اس میں مولانا کا بڑا تعاون رہا ہے۔ انہوں نے تقریباً 60 سال تک مسجد میں امامت کی۔ جب وہ مسجد میں نماز پڑھاتے تھے تو ان کی آواز کافی دور تک سنائی دیتی تھی۔ انہوں نے مولانا کو انتہائی نیک دل انسان قرار دیتے ہوئے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
ندوہ کے طالب علم کمال نے بتایا کہ مولانا کا انتقال بدھ کی دوپہر تقریباً 3 بجے ہوا۔ مولانا نے ندوۃ العلماء کی شناخت کو صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ بیرون ملک بھی ادارے کی شناخت بنانے میں تعاون کیا۔ ان کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں سے طلبہ ندوہ میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں اور اس میں مولانا جیسے علماء کا اہم کردار رہا ہے۔ کمال نے مزید بتایا کہ مولانا ہمیشہ ہندو مسلم تہذیب اور باہمی بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی بات کرتے تھے۔
سماجوادی پارٹی کی ترجمان پوجا شکلا نے بتایا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتقال تعلیمی شعبے کے لیے بڑا نقصان ہے۔ وہ اسلامی تعلیم اور عربی زبان کے عالم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ 2019 میں خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کی جانب سے انہیں اعزازی ’ڈی لٹ‘ کی ڈگری بھی دی گئی تھی۔ وہ ہمیشہ بھائی چارے اور انسانیت کی بات کرتے تھے۔
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء کے پرنسپل اور معروف اسلامی اسکالر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا بدھ (7 اکتوبر) کی دوپہر تقریباً 3 بجے انتقال ہو گیا۔ ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments