یہ بات قریباً ہر کتا پالنے والا شخص جانتا ہے لیکن اب سائنس نے بھی اس کی تائید کر دی ہے کہ کتے واقعی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان خوش ہے یا اداس۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سائنسی جریدے آئی سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے کتوں کے دماغوں کا سکین کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ انسانوں کے مختلف جذبات اور چہرے کے تاثرات کو کس طرح سمجھتے ہیں۔ تحقیق میں خوشی، غصے، خوف اور اداسی کے تاثرات شامل تھے۔
ویانا یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے تحقیق کے دوران کتوں کو ایف ایم آر آئی سکین میں رکھا۔ اس دوران کتے بیدار رہے اور انہیں ایسے انسانوں کی تصاویر دکھائی گئیں جن کے چہروں پر مختلف جذبات نمایاں تھے۔ سکین سے معلوم ہوا کہ انسان کے چہرے کے تاثرات کے مطابق کتوں کے دماغ کی سرگرمی مختلف انداز میں تبدیل ہوتی ہے۔
تحقیق کی سینیئر مصنفہ لورا وی کُوایا نے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انسانوں اور دوسرے حیوانات کا موازنہ کرتے ہوئے بعض صلاحیتیں مشترکہ ارتقائی جدِ امجد سے منسوب کی جا سکتی ہیں، لیکن کتوں کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ ان کے مطابق کتوں نے ارتقا کا بالکل مختلف راستہ اختیار کیا، تاہم انسانوں کے ساتھ گھریلو تعلق اور طویل عرصے کی وابستگی کے نتیجے میں انہوں نے انسانوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے غیر معمولی سماجی صلاحیتیں پیدا کیں۔
محققین نے پہلے آٹھ کتوں کے دماغ سکین کیے جن میں چھ بارڈر کولی، ایک لیبراڈار اور ایک گولڈن ریٹریور شامل تھا۔ انہیں اجنبی افراد کے خوش یا غیر جذباتی چہروں کی تصاویر دکھائی گئیں۔
خوش چہروں کی تصاویر دیکھنے پر دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی بڑھ گئی جو اعلیٰ ذہنی عمل اور انعام یا خوشی کے احساس سے منسلک ہیں، خصوصاً ٹیمپورل کارٹیکس اور کیوڈیٹ نیوکلیئس۔
کُوایا کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ انسان کا خوش چہرہ کتوں کے لیے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔
بعد میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا کتوں کے دماغ کے یہی حصے غصے، خوف اور اداسی جیسے دیگر جذبات پر بھی اسی طرح ردِعمل دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں 12 کتوں کو خوش، غصے، خوف اور اداسی کے تاثرات رکھنے والے انسانوں کی تصاویر دکھائی گئیں اور مشین لرننگ کے ذریعے ان کے دماغی ردِعمل کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کتوں کے دماغ نے غصے، خوف یا اداسی کے تاثرات پر بالکل وہی ردِعمل نہیں دیا جو خوشی کے تاثرات پر دیا تھا۔ تاہم پورے دماغ کے تجزیے سے یہ ضرور ظاہر ہوا کہ منفی جذبات رکھنے والے چہروں کو دیکھتے وقت دماغ میں مخصوص اور الگ سرگرمی کے نمونے پیدا ہوئے۔
ویانا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے پہلے مصنف راؤل ہرنانڈیز پیریز نے کہا کہ انسان چہرے کی معمولی سے معمولی تفصیل بھی محسوس کرنے میں ماہر ہیں اور کتے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کتوں کے دماغ کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ان کی غیر معمولی سماجی اور جذباتی سمجھ بوجھ کے لیے کون سی صلاحیتیں پیدا ہوئی ہیں۔
Source: Admin
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments