Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

گاندھی جینتی پر دِلّی میدانِ جنگ بن گئی: ووٹر لسٹ تنازع پر اپوزیشن کا جنتر منتر پر دھاوا، اتشی، برندا کرات اور منوج جھا سمیت 1100 حراست میں

Admin
By Admin
Oct 02, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

گاندھی جینتی پر دِلّی میدانِ جنگ بن گئی: ووٹر لسٹ تنازع پر اپوزیشن کا جنتر منتر پر دھاوا، اتشی، برندا کرات اور منوج جھا سمیت 1100 حراست میں
گاندھی جینتی پر دِلّی میدانِ جنگ بن گئی: ووٹر لسٹ تنازع پر اپوزیشن کا جنتر منتر پر دھاوا، اتشی، برندا کرات اور منوج جھا سمیت 1100 حراست میں — October 02, 2026
نئی دہلی:
انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی خصوصی مہم (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑی تعداد میں وٹرز کے نام خارج کیے جانے کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں، کانگریس، عام آدمی پارٹی (AAP)، اور طلبہ و نوجوانوں کی تنظیموں نے جمعہ کے روز (گاندھی جینتی) دلّی کے جنتر منتر پر پولیس کی تمام تر پابندیوں کو توڑتے ہوئے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس نے دفعہ 144 کے نفاذ اور مظاہرے کی اجازت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے پوری دہلی سے تقریباً 1,100 افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں متعدد اپوزیشن رہنما اور طلبہ رہنما شامل ہیں۔

پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے والوں میں دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ اتشی، CPI(M) لیڈر برندا کرات، RJD کے مروج جھا، CPI(M) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی، عام آدمی پارٹی کے سؤربھ بھاردواج اور سنجیو جھا کے علاوہ سماجی کارکنان یوگیندر یادو اور نکل دے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ CPI(M) کی طلبہ تنظیم SFI کی جنرل سکریٹری عائشے گھوش، AISA کے کارکنان، اور NSUI کے قومی صدر ونود جاکھڑ کو بھی ریلی نکالنے کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ AAP کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کو احتجاج کی جگہ جاتے ہوئے روکا گیا، جس کے بعد وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔

مظاہرے کے دوران حراست سے بچنے اور جنتر منتر پہنچنے کے لیے مظاہرین اور پولیس کے درمیان نوک جھونک دیکھی گئی۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر اور حکومت کے خلاف "ووٹر چور گدی چھوڑ" اور "گلی گلی میں شور ہے، گیانیش ووٹ چور ہے" جیسے نعرے لگائے۔

انڈین یوتھ کانگریس (IYC) کے کارکنان نے ایک منفرد احتجاج کرتے ہوئے سیاہ لبادے اور سفید ماسک پہن کر خود کو "زندہ بھوت" کے طور پر پیش کیا، جس سے مراد وہ زندہ وٹرز تھے جن کے نام ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر ہٹا دیے گئے ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل
حراست کے دوران RJD رہنما منوج جھا نے کہا کہ "آج گاندھی جینتی ہے اور جمہوریت کے ساتھ یہ رویہ انتہائی شرمناک ہے۔"

CPI(M) رہنما برندا کرات نے الزام لگایا کہ "مرکز میں گودسے کی نظریہ رکھنے والے اقتدار میں ہیں اور وہ ووٹ کی چوری کے ذریعے جمہوریت کا قتل کر رہے ہیں۔ تقریباً 13 کروڑ شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔"

سماجی کارکن یوگیندر یادو نے چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے (Impeachment) کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بولنے کی آزادی ختم ہو چکی ہے۔

دہلی میں سخت امن و امان کے اقدامات
احتجاج کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (CAPF) کے بھاری دستے تعینات کیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دہلی میٹرو کے 12 اہم اسٹیشنوں (بشمول راجیو چوک، منڈی ہاؤس، اور سینٹرل سیکریٹریٹ) کے آمد و رفت کے راستے عارضی طور پر بند کر دیے، جبکہ جنتر منتر اور اس کے اطراف میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں اور ٹریفک کی نقل وحرکت محدود کر دی گئی۔

دہلی پولیس کے مطابق، مظاہرے کے لیے کوئی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی تھی، اسی لیے قانون و نظام کو برقرار رکھنے اور غیر قانونی اجتماع کو روکنے کے لیے حراستیں عمل میں لائی گئیں۔

نئی دہلی: انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی خصوصی مہم (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑی تعداد میں وٹرز کے نام خارج کیے جانے کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں، کانگریس، عام آدمی پارٹی (AA...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn