فرانس میں تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 400 سے زائد سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل آن لائن منتقل کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزیر تعلیم ایدوار جفری کے مطابق حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران 65 تعلیمی عملے کے ارکان زخمی ہوئے ہیں، جن میں 40 سکول سربراہان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سو سے زائد سکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی تعلیمی اداروں میں عمارتوں اور سہولیات کو نقصان پہنچنے کے باعث معمول کی تدریس ممکن نہیں رہی۔
حکومت کے مطابق احتجاجی تحریک ابتدا میں اساتذہ اور عملے کی کمی، گنجان کلاس رومز اور خستہ حال تعلیمی عمارتوں کے خلاف شروع ہوئی تھی، تاہم بعد میں اس میں شدت آ گئی اور بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران ایک ہزار 949 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 305 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانس میں تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 400 سے زائد سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد تعلیمی اداروں ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments