Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

چلتی کار سے ورچوئل سماعت میں شامل ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے وکیل پر عائد کیا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ

Admin
By Admin
Sep 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

چلتی کار سے ورچوئل سماعت میں شامل ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے وکیل پر عائد کیا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
چلتی کار سے ورچوئل سماعت میں شامل ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے وکیل پر عائد کیا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ — September 30, 2026
دہلی ہائی کورٹ نے ایک وکیل پر ورچوئل سماعت کے دوران چلتی کار سے پیش ہونے پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ورچوئل سماعت کی سہولت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کے وقار اور نظم و ضبط سے سمجھوتہ کیا جائے یا عدالتی کارروائی میں خلل پڑے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ آن لائن سماعت کی سہولت صرف فریقین اور وکلاء کی سہولت کے لیے ہے، لیکن اس کا اس طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے عدالت کی کارروائی کی سنجیدگی اور وقار متاثر ہو۔

جسٹس اوم پرکاش شکلا کی سنگل جج بنچ نے یہ جرمانہ اس وکیل پر عائد کیا جو ’ڈکری ہولڈر‘ (فیصلے سے فائدہ حاصل کرنے والے فریق) کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔ یہ معاملہ ساؤتھ انڈین بینک لمیٹڈ اور یونین بینک آف انڈیا لمیٹڈ کی جانب سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے خلاف دائر کی گئی 2 متعلقہ ’انفورسمنٹ درخواستوں‘ (فیصلہ نافذ کرانے کی درخواستوں) سے متعلق تھا۔ سماعت کے آغاز میں ہی بنچ نے دیکھا کہ ’ڈکری ہولڈرز‘ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نچیکیتا گوئل چلتی کار سے کارروائی میں شامل ہو رہے تھے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’یہ عدالت ورچوئل سماعت سے ملنے والی سہولت کی قدر کرتی ہے، لیکن ایسی سہولت عدالت کے وقار کی قیمت پر نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے عدالتی کارروائی کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ آنی چاہیے۔‘‘ ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’جب اس عدالت کو ایک دن میں 70 سے زیادہ مقدمات کی سماعت کرنی ہوتی ہے تو سماعت کے دوران بیک گراؤنڈ کا شور اور ہلچل عدالت کے کام کاج میں رکاوٹ بنتی ہے۔‘‘ اس حکم میں ’الیکٹرانک ایویڈنس اور ویڈیو کانفرنسنگ رولز، 2025‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان قواعد کے مطابق وکلاء کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ گاڑیوں سے کارروائی میں شامل نہ ہوں، سوائے ان مخصوص حالات کے جب عدالت سے اس کی اجازت ملی ہو۔

جسٹس شکلا نے کہا کہ ’’یہ ضرورت صرف طریقۂ کار سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ جب وکیل ورچوئل طور پر پیش ہوں تو وہ ایسی جگہ پر ہوں جو اس عدالت کے مناسب کام کاج کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔‘‘ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں کوئی خاص حالات نہیں تھے اور وکیل کا رویہ قواعد کی خلاف ورزی تھا۔ مذکورہ بالا باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈکری ہولڈر کے وکیل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ یہ رقم آج سے ایک ہفتے کے اندر دہلی ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کو جمع کرانی ہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ نے ایک وکیل پر ورچوئل سماعت کے دوران چلتی کار سے پیش ہونے پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ورچوئل سماعت کی سہولت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت ک...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn