ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا ہے کہ ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے۔
متعدد زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔
پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔
انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔
ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔
سپین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ شہری تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے جنرل سیکریٹریٹ کے 102 اہلکار جائے حادثہ پر موجود ہیں۔
اس کے علاوہ سول گارڈ کے 422 اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ تین ہیلی کاپٹر، ڈرونز اور کھوج لگانے والے کتوں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
شام ڈھلنے کے ساتھ جائے حادثہ پر روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیے ایک بڑی کرین بھی وہاں موجود ہے۔
سپین کی سول گارڈ کے مطابق ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کی ڈی این اے نمونوں کی مدد سے شناخت کرنا ان کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔
سول گارڈ کے مطابق متاثرین کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے میڈرڈ اور سپین کے دیگر علاقوں میں چار مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا ہے کہ ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments