بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادچ، جو بوسنیا میں 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے حراستی مرکز میں وفات پا گئے ہیں۔
راتکو ملادچ کو 2017 میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ملادچ کو بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے، انھوں نے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔
اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔
یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔
بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادچ، جو بوسنیا میں 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے حراستی مرکز میں وفات...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments