نئی دہلی: کانگریس نے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے خلاف لوک سبھا میں مراعات شکنی کا نوٹس پیش کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے متعلق ایوان میں غلط معلومات دے کر پارلیمنٹ کو گمراہ کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر کو نوٹس ارسال کیا ہے، جس میں قواعدِ کار کے رول 222 کے تحت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر مملکت نے 29 جولائی کو عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران ایوان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ وینوگوپال نے اپنے نوٹس میں موقف اختیار کیا کہ وزیر کا یہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق، احتجاج کے دوران فائرنگ ہوئی، زخمی طلبہ کے اسپتالوں کے ریکارڈ موجود ہیں اور متعدد میڈیا رپورٹس بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر نے جان بوجھ کر غلط معلومات دے کر پارلیمنٹ کو گمراہ کیا، جو ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ کانگریس رہنما نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو مراعات کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس کی مکمل جانچ کے بعد مناسب کارروائی کی جا سکے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی وزیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان میں بیان دینے سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق کرے۔ اس سلسلے میں وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی ایک پوسٹ جاری کی، جس میں کہا کہ انہوں نے وزیر مملکت جتیندر سنگھ کے خلاف اس لیے مراعات شکنی کی تحریک پیش کی کیونکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں کھلے عام غلط بیانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے میڈیا کے سامنے پیلٹ گن سے زخمی ایک طالب علم سے ملاقات کی تھی، جبکہ متعدد میڈیا رپورٹس اور اسپتالوں کے ریکارڈ بھی ایسے زخمیوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پارلیمنٹ میں اس نوعیت کی ’واضح غلط بیانی‘ کر کے جوابدہی سے نہیں بچ سکتی، اس لیے متعلقہ وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر کی جانب سے بھی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس پیش کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام درحقیقت مرکزی وزیر جتیندر سنگھ پر عائد ہوتا ہے، جنہوں نے طلبہ کے احتجاج سے متعلق حقائق کے برعکس بیان دیا۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments