ممبئی کے کوسٹل روڈ پر اتوار کی صبح تیز رفتار بی ایم ڈبلیو کار خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ ممبئی پولیس کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق بی ایم ڈبلیو کار پل سے نیچے گر گئی تھی۔ کار میں مجموعی طور پر 4 افراد سوار تھے، جن میں سے 3 افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ ایک شخص کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کار مرین ڈرائیو سے حاجی علی کی جانب کوسٹل روڈ پر جا رہی تھی۔ تیز رفتاری کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ حادثے کی اطلاع 20 ستمبر 2026 کو صبح 5:20 بجے کوسٹل روڈ کنٹرول روم سے ملی تھی۔ حادثہ کوسٹل روڈ پر لالا کالج کے سامنے، لوٹس جیٹی کے قریب پیش آیا۔
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق حادثے کے بعد کار میں سوار چاروں افراد کو نائر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ایمرجنسی میڈیکل ٹیم نے ان کی حالت کی جانچ کی۔ نائر اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) کی جانب سے صبح تقریباً 8:40 بجے جاری اپ ڈیٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے کار میں سوار 3 افراد کو ’براؤٹ ڈیڈ‘ (اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت) قرار دیا۔ مرنے والوں میں ایک 21 سالہ اور ایک 17 سالہ نوجوان شامل تھا، جبکہ جبکہ مرنے والوں کی شناخت اور دیگر معلومات کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ چوتھا شخص جو 20 سالہ نوجوان ہے، حادثے میں شدید زخمی ہو گیا اور اسے نائر اسپتال کے ٹراما وارڈ میں داخل کرایا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت اور حادثے کی صحیح وجہ کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 3 ستمبر کو ممبئی پولیس نے ایک وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کئی افراد کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ اس ویڈیو میں مرین ڈرائیو-ساؤتھ باؤنڈ کوسٹل روڈ ٹنل کے اندر لگژری اور ہائی پرفارمنس کاریں خطرناک طریقے سے تیز رفتاری سے دوڑتی اور ریسنگ کرتی ہوئی دکھائی دی تھیں۔ دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز میں نوی ممبئی کے واشی میں پی کے سی اسپتال کے قریب تیز رفتار آف روڈ ایس یو وی (اسپورٹ یوٹیلیٹی وہیکل) کی ٹکر سے 3 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ حادثے کے بعد ڈرائیور زخمیوں کی مدد کرنے کے بجائے موقع سے فرار ہو گیا تھا۔
ممبئی کے کوسٹل روڈ پر اتوار کی صبح تیز رفتار بی ایم ڈبلیو کار خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ ممبئی پولیس کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق بی ایم ڈبلیو کار پل سے نیچے گر گئی تھی۔ کا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments