بعض سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ موجودہ سال 2026 کے اختتام سے پہلے یعنی آئندہ چند ہفتوں کے اندر دنیا ختم ہو جائے گی اور انسانیت فنا ہو جائے گی تاہم اس پیش گوئی کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ ان سائنس دانوں میں سے ایک کی مصنوعی ذہانت کے بارے میں پیش گوئیاں پہلے بھی درست ثابت ہو چکی ہیں اور جو کچھ انہوں نے پہلے کہا تھا اور جس پر لوگ یقین نہیں کر رہے تھے، اس کے سچ ثابت ہونے پر انہوں نے سائنس دانوں اور مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔
برطانوی اخبار ’’ ڈیلی سٹار ‘‘ کی شائع کردہ اور ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کی دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق محققین توقع کر رہے ہیں کہ 2026 کا سال ختم ہونے سے پہلے قیامت کا دن آ جائے گا اور دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ پیش گوئی دراصل 1960 کی ایک تحقیق سے سامنے آئی ہے جو نامور علمی مجلے ’’ سائنس ‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ یہ الینوائے یونیورسٹی کے تین ممتاز محققین کی تحقیق تھی جس میں انہوں نے جمعہ 13 نومبر 2026 کو ایک تباہ کن واقعہ پیش آنے سے خبردار کیا تھا۔
تینوں سائنس دانوں - ہائنز فون فورسٹر، پیٹریسیا ایم مورا، اور لارنس ڈبلیو امیوٹ - مغربی معاشرے کے موجودہ رجحانات کا مطالعہ کر کے اس تشویشناک نتیجے پر پہنچے تھے جہاں ان کا نظریہ اس خیال پر مبنی تھا کہ زمین بے تحاشا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے نتیجے میں تباہی کے نقطے پر پہنچ جائے گی۔ جب یہ تحقیق شائع ہوئی تو دنیا کی آبادی تقریباً تین ارب تھی لیکن آج یہ تعداد چھلانگ لگا کر تقریباً 8.3 ارب تک پہنچ چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کسی نے ہمارے سیارے کے خاتمے کی پیشگوئی کی ہو لیکن اخبار ’’ ڈیلی ایکسپریس ‘‘کے مطابق اس تحقیق کو اس لیے خاص توجہ ملی کیونکہ یہ ایک سنجیدہ سائنسی تحقیق سے سامنے آئی تھی۔
اس کے علاوہ تحقیق کی تیاری میں حصہ لینے والے ایک سائنس دان آسٹرین نژاد امریکی ہائنز فون فورسٹر نے مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں بھی ایک درست پیشگوئی کی تھی اور وہ بھی بے شمار لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اس کے داخل ہونے سے بہت پہلے۔
1995 میں اس ٹیکنالوجی پر بحث کے لیے ویب سائٹ "دی انفارمیشن فلاسفر" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فون فورسٹر نے وضاحت کی تھی کہ یہ فرض کرنا خطرناک ہے کہ مصنوعی ذہانت اسی طرح سوچتی ہے جس طرح انسان سوچتے ہیں۔ فون فورسٹر - جن کا 2002 میں انتقال ہو گیا تھا - نے دلائل دیے کہ مصنوعی ذہانت کی بظاہر ذہین کام انجام دینے کی صلاحیت انسانی ذہانت کے برابر نہیں ہے اور انہوں نے اس مفروضے کو خطرناک قرار دیا۔
31 سال بعد انسانیت اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مستقبل کے تعلق کے بارے میں فون فورسٹر کی پیشگوئی کی حیران کن درستی ان کی دنیا کے خاتمے کی خبردار کرنے والی پیش گوئی کو مزید تشویشناک بنا دیتی ہے۔ کیونکہ اس سائنس دان اور ان کے ساتھیوں کے مطابق دنیا کی آبادی دو ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں اپنی آخری حد تک پہنچ جائے گی۔ ان کی تباہ کن پیش گوئیوں کا ایٹمی جنگ یا ماحولیاتی آفات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق دنیا کا خاتمہ حد سے زیادہ آبادی کے باعث ہوگا۔ یاد رہے باضابطہ تخمینوں کے مطابق 2080 کی دہائی کے وسط تک دنیا کی آبادی تقریباً 10.3 ارب تک پہنچنے کی توقع ہے جس کے بعد بالآخر اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
بعض سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ موجودہ سال 2026 کے اختتام سے پہلے یعنی آئندہ چند ہفتوں کے اندر دنیا ختم ہو جائے گی اور انسانیت فنا ہو جائے گی تاہم اس پیش گوئی کا خوفناک پہلو ی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments